مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 425 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 425

آسان ہو جائے۔اس سکیم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کے لئے سب سے پہلا اور اہم قدم یہ اٹھایا گیا کہ ابتدا 6 اکتوبر 1933 ء کو دو نوجوان قادیان میں صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لئے بھیجے گئے پھر جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسہ 1933ء میں ہر طرح سے لوگوں کو روکنے اور فساد ڈالنے کی کوشش کی گئی لیکن احمدیوں کے صبر کی وجہ سے احرار کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔1934 ء کی ابتدا میں قادیان میں احرار کا دفتر قائم کر دیا گیا۔قادیان میں احرار کے دفتر کی بنیاد جس شخص کے ذریعے رکھی گئی اس کی نسبت اپریل 1935 ء میں اخبار ”زمیندار“ نے لکھا کہ اس نے مسجد کے نام پر لوگوں سے پیسہ جمع کیا لیکن حساب کتاب مانگنے پر جواب ندارد۔بالآخر اعتراف جرم کر کے فرار ہونے کی کوشش کی مگر حوالہ پولیس ہوا۔گورنمنٹ کی مخالفانہ سرگرمیاں: تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 438 تا 442) احرار کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ نے بھی جماعت تنگ کرنا شروع کر دیا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ڈاک پر سنسر شپ (censor ship) بیٹھا دی، کسی نہ کسی بہانے وہ حضور رضی اللہ عنہ پر گرفت کرنے پر تلی ہوئی تھی۔انہیں دنوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مکرم شیخ عبدالقادر صاحب لکھتے ہیں: سر ایمرسن (Sir Emerson) گورنر پنجاب) حضرت اقدس رضی اللہ عنہ کی خدا داد ذہانت اور فراست دیکھ کر حیران تھے۔وہ کہتے تھے کہ یہ عجیب انسان ہے۔اپنی قوم کو بیدار کرنے اور ابھارنے کے لئے ایسی زبر دست تقریر کرتا ہے کہ جو سراسر قابل اعتراض ہوتی ہے مگر آخر میں ایک فقرہ ایسا کہہ جاتا ہے کہ جس سے پہلی تقریر ساری کی ساری ناقابل اعتراض ہو کر رہ جاتی ہے اور ہم اس پر کوئی گرفت نہیں کر سکتے۔“ قادیان میں احرار تبلیغ کا نفرنس: تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 457 ) احرار اور حکومت پنجاب نے احمدیت کے خلاف مظالم کا جو سلسلہ جاری کر رکھا تھا اس کی ایک کڑی احرار تبلیغ کانفرنس" جو 22،21، 23 /اکتوبر 1934 ء تھی۔یہ کانفرنس جس کا نام تبلیغ کانفرنس“ رکھا گیا تھا شروع سے لے کر آخر تک جماعت احمدیہ اور اس کے امام کے خلاف اشتعال پھیلانے کے لئے وقف رہی اور دشنام آمیز گندی زبان میں شدید حملے کئے گئے یہ کانفرنس محض فساد کے لئے کی گئی تھی۔احمدیوں کو اس میں جانے سے روک دیا گیا۔اگر تبلیغی کا نفرنس تھی تو احمدیوں کو کھلے عام بلاتے اور پھر سارے لوگ یہ قریباً پانچ ہزار (5000) تھے جو باہر سے آئے ہوئے تھے وہ کسی اور جگہ بھی اکٹھے ہو سکتے تھے بلکہ اگر لاہور، امرتسر یا جالندھر وغیرہ میں کانفرنس ہوتی تو زیادہ سامعین ہوتے۔لہذا ثابت ہوا کہ قادیان میں کانفرنس کا مقصد صرف اور صرف فساد تھا۔اسی کا نتیجہ تھا کہ مختلف علاقوں میں احمدیوں کو مارا پیٹا گیا، ان پر حملے کئے گئے، پانی بند کیا گیا ، مال لوٹ لیا گیا، بائیکاٹ کیا گیا اور قبرستانوں میں احمدیوں کو اپنے مردے دفنانے سے روکا گیا۔قادیان میں فساد کرانے کی شرمناک سازش: تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 485 تا 537) 8 جولائی 1935ء کو ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لخت جگر حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب 425