مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 427 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 427

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو مولوی ظفر علی خان صاحب کا خراج تحسین: مولوی ظفر علی خان صاحب نے صرف مجلس احرار کی تذلیل و تحقیر ہی نہیں کی بلکہ ان کی خلاف احمدیت سرگرمیوں پر بھی زبردست تنقید کی اور جماعت احمدیہ کی تبلیغی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔چنانچہ احرای لیڈر مولوی مظہر علی صاحب اظہر اپنی کتاب ایک خوفناک سازش“ میں لکھتے ہیں:۔”مولوی (ظفر علی خاں نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا : احمدیوں کی مخالفت کی آڑ میں احرار نے خوب ہاتھ رنگے۔احمدیوں کی مخالفت کا احرار نے محض جلب زر کے لئے ڈھونگ رچا رکھا ہے، قادیانیت کی آڑ میں غریب مسلمانوں کی گاڑھے پسینہ کی کمائی ہڑپ کر رہے ہیں۔کوئی ان احرار سے پوچھے بھلے مانسو! تم نے مسلمانوں کا کیا سنوارا؟ کون سی اسلامی خدمت تم نے سر انجام دی ہے؟ کیا بھولے سے بھی تم نے تبلیغ اسلام کی؟ احرار! کان کھول کر سن لو تم اور تمہارے لگے بندھے مرزا محمود کا مقابلہ قیامت تک نہیں کر سکتے۔مرزا محمود کے پاس قرآن کا علم ہے تمہارے پاس کیا خاک دھرا ہے؟ تم میں ہے کوئی جو قرآن کے سادہ حروف بھی پڑھ سکے؟ تم نے کبھی خواب میں بھی قرآن نہیں پڑھا۔تم خود کچھ نہیں جانتے تم لوگوں کو کیا بتاؤ گے؟ مرزا محمود کی مخالفت تمہارے لئے فرشتے بھی نہیں کر سکتے۔مرزا محمود کے پاس ایسی جماعت ہے جو تن من دھن اس کے ایک اشارہ پر اس کے پاؤں میں نچھاور کرنے کو تیار ہے۔تمہارے پاس کیا ہے؟ گالیاں اور بدزبانی! تف ہے تمہاری غذاری پر! لاہور میں مسجد شہید ہوئی تم ٹس سے مس نہ ہوئے۔۔۔۔۔۔سوائے چند تنخواہ دار اور بھاڑے کے ٹوؤں کے تم کسی کو جیل خانہ نہیں بھجوا سکے۔مرزا محمود کے پاس مبلغ ہیں، مختلف علوم کے ماہر ہیں، دنیا کے ہر ایک ملک میں اس نے جھنڈا گاڑ رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔میں حق بات کہنے سے باز نہیں رہ سکتا یہ میں ضرور کہوں گا کہ اگر تم نے مرزا محمود کی مخالفت کرنی ہے تو پہلے قرآن سیکھو، مبلغ تیار کرو، عربی مدرسہ جاری کرو۔قادیان میں دو چار مفسدہ پرداز بھیجنے سے کام نہیں چلتا۔یہ تو چندہ بٹورنے کے ڈھنگ ہیں۔اگر مخالفت کرنی ہے تو پہلے مبلغ تیار کرو، غیر ممالک میں ان کے مقابلہ میں تبلیغ اسلام کرو یہ کیا شرافت ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔مرزائیوں کو گالیاں دلوا دیں۔کیا یہ تبلیغ اسلام ہے ؟ یہ تو اسلام کی مٹی خراب کرنا ہے۔“ خلافت احمدیہ کے خلاف دوسری مخالفانہ تحریک: تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 556 تا 557) خلافت احمدیہ کے خلاف پہلی تحریک 1934ء میں ناکام ہوئی تو احرار مسلسل اس کوشش میں رہے کہ کوئی نہ کوئی موقع پیدا کیا جائے جس سے ان کے مذموم مقاصد کی تکمیل ہو سکے اور وہ اپنی کھوئی ہوئی سیاسی شہرت بھی حاصل کر سکیں۔چنانچہ یہ موقع انہیں 1952ء میں میسر آگیا۔یہ تحریک دراصل ایک سیاسی تحریک تھی جس کامیابی کے لئے عوام کو اپنے ساتھ ملا کر مذہبی رنگ دے دیا گیا جیسا کہ خواجہ ناظم الدین صاحب وزیر اعظم پاکستان نے تحقیقاتی عدالت میں اس کا اعتراف کیا وہ کہتے ہیں: اس تحریک کے پس پردہ وہ لوگ ہیں جو سیاسی اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔میری مراد صوبہ پنجاب کے ان لیڈروں سے تھی جن کے ہاتھوں میں صوبائی حکومت کی باگ دوڑ تھی مجھے برابر اطلاع مل رہی تھی کہ خود وزیر اعلیٰ اور ان کے افسر خود تحریک کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔“ ( تاریخ احمدیت جلد 15 صفحہ 462) 427