مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 39
واللہ! یہ نیک کام ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے اس وقت سے اب تک ان کا اصرار جاری ہے یہاں تک کہ اس معاملہ میں مجھے شرح صدر (القا) ہوا اور میں سمجھ گیا کہ اس کی بڑی اہمیت ہے۔حضرت زید رضی اللہ عنہ بن ثابت کہتے ہیں کہ یہ تمام باتیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموشی سے سن رہے تھے ، پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا اے زید! تم جوان اور دانشمند آدمی ہو اور تم کسی بات میں اب تک متہم بھی نہیں ہوئے ہو (تم ثقہ ہو ) علاوہ ازیں تم کاتب وحی (رسول اللہ ) بھی رہ چکے ہو۔لہذا تم تلاش و جستجو سے قرآن شریف کو ایک جگہ جمع کر دو۔حضرت زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ بہت ہی عظیم کام تھا، مجھ پر بہت ہی شاق تھا، اگر خلیفہ رسول مجھے پہاڑ اُٹھانے کا حکم دیتے تو میں اس کو بھی اس کام سے ہلکا سمجھتا۔لہذا میں نے عرض کیا کہ آپ دونوں حضرات (حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما) وہ کام کس طرح کریں گے جو حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میرا جواب سن کر یہی فرمایا: اس میں کچھ ہرج نہیں ہے۔زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مگر مجھے پھر بھی تأمل رہا میں خود کو ایک عظیم کام کے انجام دینے کا اہل نہیں سمجھتا ہوں) اور میں نے اس پر اصرار کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ بھی کھول دیا (شرح صدر فرمایا اور اس امر عظیم کی اہمیت مجھ پر بھی واضح ہو گئی۔پھر میں نے تشخص اور تلاش کا کام جاری کیا اور کاغذ کے پرزوں، اونٹ اور بکریوں کی شانوں کی ہڈیوں اور درختوں کے پتوں کو جن پر آیات قرآنی تحریر تھیں یکجا کیا اور پھر لوگوں کے حفظ کی مدد سے قرآن شریف کو جمع کیا سورۃ توبہ کی دو آیتیں لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمُ۔۔۔۔۔۔۔الخ مجھے حزیمہ بن ثابت کے سوا کہیں اور سے نہیں مل سکیں اس طرح میں نے قرآن پاک جمع کر کے حضرت ابو بکر صدیق کی خدمت میں پیش کر دیا جو حضرت ابو بکر صدیق کی وفات تک ان کے پاس رہا۔“ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم : ( تاريخ الخلفاء- صفحه 213 و 214) اِنَّ اللَّهَ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَ بَيْنَمَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ ذَلِكَ الْعَبْدَ مَا عِنْدَ اللهِ قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ فَعَجِبْنَا لَبُكَائِهِ أَنْ يُخْبَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلِيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدِ خُيْرَ فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَيَّرُ۔وَكَانَ أَبُو بَكْرِ اَعْلَمُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمِ إِنَّ اَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي مَحَبَّتِهِ وَمَا لِهِ أَبَا بَكْرٍ وَلَوْ كُنتُ مُتَّخِذَا خَلِيْلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ اَبَابَكْرٍ خَلِيْلًا وَلَكِنْ اَخُوَّةُ الْإِسْلَامِ وَمُوَدَّتُهُ لَا يَبْقِيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ بَابٌ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَابُ أَبِي بَكْرٍ۔(بخاری باب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو اپنی رفاقت اور دنیوی ترقیات میں سے ایک کے انتخاب کی اجازت دی اور اس نے خدا تعالیٰ کی رفاقت کو ترجیح دی۔دوسرے صحابہ تو اس تمثیل کو نہ سمجھ سکے لیکن حضرت ابو بکر کی چیچنیں نکل گئیں۔صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے بندے کا ذکر فرما رہے ہیں جس کو اختیار دیا گیا ہے کہ خواہ وہ اس دنیا میں رہے اور فتوحات سے لذت اٹھائے اور خواہ اللہ تعالیٰ کے پاس آجائے۔بھلا یہ کون سا رونے کا مقام ہے؟ کیونکہ اسلام کی فتوحات کا وعدہ پیش کیا جا رہا ہے۔راوی بیان کرتا ہے کہ در حقیقت صحابہ کا قیاس درست نہ تھا بلکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی خدا داد فراست سے جو 39