مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 38 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 38

خوشی و مسرت سے بھر گئے، وہ آپ کو ایک مبارک اور نبیوں کی طرح تائید یافتہ وجود خیال کرتے تھے۔یہ سب کچھ صدیق کے صدق کا کرشمہ تھا اور اسی گہرے یقین کی وجہ سے جو آپ یعنی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ میں پایا جاتا تھا بخدا آپ رضی اللہ عنہ اسلام کے آدم ثانی اور خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار کے مظہر اول تھے، آپ رضی اللہ عنہ نبی تو نہ تھے لیکن آپ رضی اللہ عنہ میں رسولوں کی سی قوتیں ودیعت کی گئی تھیں۔آپ رضی اللہ عنہ کے صدق وصفا کا ہی نتیجہ تھا کہ چمنِ اسلام کی بہار و رونق واپس آگئی۔“ اشاعت اسلام: وو۔کتاب سیر الصحابہ رضی اللہ عنہم میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہے کہ: " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا خلفائے راشدین کے عہد میں جس قدر لڑائیاں پیش آئیں وہ سب للہیت پر اور اعلائے کلمۃ اللہ پر مبنی تھیں اس لئے ہمیشہ کوشش کی گئی کہ اس مقصد عظیم کے لئے جو فوج تیار ہو وہ اخلاق و رفعت میں تمام دنیا کی فوجوں سے ممتاز ہو۔سے ممتاز ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی فوجی تربیت میں اس نکتہ کو ہمیشہ ملحوظ رکھا اور جب کبھی فوج کسی مہم پر روانہ ہوتی تو خود دُور تک پیادہ ساتھ گئے اور امیر عسکر کو زریں نصائح کے بعد رخصت فرمایا۔چنانچہ ملک شام پر فوج کشی ہوئی تو سپہ سالار سے فرمایا: إِنَّكَ تَجِدُ قَوْمًا زَعَمُوا أَنَّهُمْ جَلَسُوا اَنْفُسَهُمْ لِلَّهِ فَذَرْهُمْ وَإِنِّى مُوصِيكَ لَا تَقَتُلُوا امْرَأَةً وَلَا صَبِيًّا وَلَا كَبِيرَ هر مَا وَلَا تَقَتَطعن شَجَرَامُثْمَرًا وَلَا تَخْرَبُنَ عَامِرًا وَلَا تَعْقَرْنَ شَأْةٌ وَلَا بَعِيرًا لَا لَا كُلِهِ وَلَا تَحْرَقْنَ نَخْلًا وَلَا تَغْلُلْنَ وَلَا تَجْنَنَ تم ایک ایسی قوم کو پاؤ گے جنہوں نے اپنے آپ کو خدا کی عبادت کے لئے وقف کر دیا ہے ان کو چھوڑ دینا میں تم کو دس وصیتیں کرتا ہوں، کسی عورت، بچے اور بوڑھے کو قتل نہ کرنا ، پھلدار درخت کو نہ کاٹنا، کسی آباد جگہ کو ویران نہ کرنا، بکری اور اونٹ کو کھانے کے سوا بریکار ذبح نہ کرنا، نخلستان نہ جلانا، مال غنیمت میں غبن نہ کرنا اور نہ بزدل نہ ہو جانا۔“ (سیر اصحابہ جلد 1 صفحہ 66) تاریخ الخلفا میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہے کہ: اسلام کی اشاعت میں بہت بڑا کام حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں قرآن کریم کا تحریری ہے صورت میں جمع ہونا تھا۔چنانچہ اس سلسلہ میں بخاری میں بروایت زید رضی اللہ عنہ بن ثابت بیان کیا گیا کہ جنگ مسیلمہ کذاب کے بعد ایک روز حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے (یعنی زید بن ثابت کو ) یاد فرمایا۔میں جس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچا تو وہاں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ (حضرت) عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے کہتے ہیں کہ ” جنگ یمامہ میں بہت سے مسلمان شہید ہو گئے ہیں، مجھے خوف ہے کہ اگر اسی طرح مسلمان شہید ہوتے رہے تو حافظوں کے ساتھ ساتھ قرآن شریف بھی نہ اٹھ جائے ( کیونکہ وہ اب تک لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہے) لہذا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کو بھی جمع کر لیا جائے“۔میں نے ان سے یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ بھلا میں اس کام کو کس طرح کر سکتا ہوں جسے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں نہیں کیا؟ تو اس پر انہوں نے یہ جواب دیا ہے کہ 38