مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 373
ملانے کے لئے لندن لے کر آئے۔ملاقات کیلئے جانے سے قبل وہ میرے دفتر میں تشریف لائے۔احمدی دوست نے ان کا تعارف کروایا اور لندن آنے کا مقصد بیان کیا۔ابتدائی تعارفی بات چیت کے بعد مجھے خیال آیا کہ یہ پہلی بار حضور رحمہ اللہ تعالیٰ سے ملنے کیلئے آئے ہیں اور انہیں ابھی حضور کے بلند مقام اور منصب کا علم نہیں ہو گا اس لئے ان کو حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی شخصیت کے بارہ میں کچھ بتا دینا چاہیے۔چنانچہ میں نے ہے چند باتوں کا ان سے ذکر کیا۔ہر احمدی کے دل میں خلیفہ وقت کی محبت ہوتی ہے اور وہ جب بھی ذکر کرتا تو خلیفہ وقت سے محبت کا یہ پہلو اس کی گفتگو میں نمایاں ہوتا ہے۔اس عاجز نے بھی اسی انداز میں کچھ باتیں کی ہوں گی جو مجھے پوری طرح یاد بھی نہیں لیکن انہوں نے ان باتوں سے بہت اچھا تاثر لیا۔اس کے بعد وہ حضور رحمہ اللہ تعالیٰ سے ملنے کیلئے گئے اور کافی دیر گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔تفاصیل کا مجھے علم نہیں کہ کن موضوعات پر بات ہوئی لیکن یہ معلوم ہے کہ اس دانش مند پروفیسر نے اس کا کیا عمدہ خلاصہ بیان کیا۔اس احمدی دوست نے مجھ سے ذکر کیا کہ پروفیسر صاحب جب حضور رحمہ اللہ سے ملاقات کے بعد باہر آئے تو انہوں نے کہا کہ امام صاحب سے مل کر ان کی باتوں سے میں نے یہ تاثر لیا کہ احمدی حضرات اپنے روحانی سربراہ سے بہت محبت کرتے ہیں اور بعد میں جب میں نے احمدیوں کے روحانی رہنما سے گفتگو کی تو اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ احمدی ضرور اپنے روحانی سربراہ سے بھر پور محبت کرتے ہیں لیکن حق یہ ہے کہ ان کا سر براہ احمد یوں سے ان سے بہت بڑھ کر محبت اور پیار کرنے والا ہے۔کتنا صحیح اور سچا تجزیہ ہے جو اس دانشور نے کیا۔“ (ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر 2004 صفحہ 299 ) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: عجیب حال ہے کہ یہ لوگ یہ ساری باتیں یہ محبت بھرے خط یہ پیاری باتیں یہ عشق کے افسانے لکھتے ہیں اور ساتھ یہ بھی لکھتے ہیں بڑے فکر کے ساتھ کہ ہمارے لئے فکر نہ کیا کرو، ہمارا خیال نہ کیا کرو، یہ ہو کیسے سکتا ہے؟ یہ تو ناممکن ہے۔کل ہی ایک خط کے جواب میں میں نے اس کو یہ لکھا کہ ایک شعر پڑھا کرتا تھا لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ کبھی مجھ پر یہ اطلاق پائے گا کہ پیار کرنے کا جو خوباں ہم پہ رکھتے ہیں گناہ ان سے بھی تو پوچھئے وہ اتنے کیوں پیارے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت اتنی پیاری ہے کہ اس سے پیار نہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔بے اختیاری کا عالم ہے، میں تو ایک ہی غم میں گھل رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے یہ توفیق بخشے کہ اس عظیم جماعت کی جو مسیح موعود علیہ السلام کی میرے پاس امانت ہے اس کے حقوق ادا کر سکوں اور اس حال میں جان دوں کہ میرا اللہ مجھے کہہ رہا ہو کہ ہاں تم نے حقوق ادا کر دیئے۔“ (خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 374,373 ) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کے سالانہ اجتماع کے اختتامی خطاب میں احباب جماعت سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہو پس یہ پہلو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی فکر کریں احتیاط سے چلیں خیر و عافیت سے پہنچیں اور مجھے کوئی دکھ دینے والی خبر نہ بعد میں آئے کیونکہ آپ کو اس بات کا علم نہیں کہ آپ میں سے جو بھی تکلیف اٹھاتا ہے اس کی مجھے 373