مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 312
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے خواب دیکھا کہ ایک مرد ہے جو اپنے پاؤں سے کسی چیز کو مسل رہا ہے مگر خواب میں میں اس کو ایک مرد نہیں سمجھتا بلکہ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ تمام مردوں کا نمائندہ یا ان کا قائم مقام ہے۔اس مرد پر ایک چادر پڑی ہوئی ہے اور وہ اپنے پیروں کو زمین پر اس طرح مار رہا ہے جیسے کسی چیز کو مسلنے کے لئے بار بار پیر مارے جاتے ہیں۔اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ جہاں اس کے پیر ہیں وہاں کیچڑ میں دنیا بھر کی عورتیں مچھلیوں کی صورت میں پڑی ہوئی ہیں۔اور وہ ان کو اپنے پیروں سے مسلنا چاہتا ہے۔یہ دیکھ کر میرے دل میں عورتوں کی ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو گیا اور میں اس کے سینے پر چڑھ گیا اور پھر میں نے اپنی لاتیں لمبی کیس اور جہاں اس کے پاؤں ہیں وہاں میں نے بھی اپنے پاؤں پہنچا دیئے مگر وہ تو ان عورتوں کو مسلنے کے لیے اپنے پیر مار رہا ہے اور میں اس کے پاؤں کی حرکت کو روکنے اور ان عورتوں کو ابھارنے کے لیے اپنے پاؤں لمبے کر رہا ہوں اس دوران میں میں ان عورتوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں : اے عورتو! تمہارے لیے آزادی کا وقت آ گیا ہے، تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے اسلام اور احمدیت کے ذریعہ تمہاری ترقی کے راستے کھول دیئے ہیں اگر اس وقت بھی تم نہیں اٹھو گی تو کب اٹھو گی؟ اور اگر اس وقت بھی تم اپنے مقام اور درجہ کے حصول کے لئے جدو جہد نہیں کرو گی تو کب کرو گی؟ وجہ میں نے دیکھا کہ جوں جوں میں نے ان کو اُبھارنے کے لئے اپنے پیر ہلانے شروع کئے، نیچے سے وہ مچھلیاں جن کو میں عورتیں سمجھتا ہوں اُبھرنی شروع ہوئیں اور وہ اتنی نمایاں ہو گئیں کہ میرے پیروں میں ان کی کھجلی شروع ہو گئی اور اس آدمی کے پیر آپ ہی آپ گھلنے شروع ہو گئے یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ بالکل گھل گئے پھر میں نے اپنے مضمون کو بدل دیا اور عورتوں سے مخاطب ہوتے ہوئے میں نے کہا: یہ وقت اسلام اور احمدیت کی خدمت کرنے کا وقت ہے اگر اس وقت مرد اور عورت مل کر کام نہیں کریں گے اور اسلام کے غلبہ کی کوشش نہیں کریں گے تو اسلام دنیا میں غالب نہیں آسکے گا۔تم کو چاہئے کہ اپنے مقام کو سمجھو اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہوئے دین کی جتنی خدمت بھی کر سکو اتنی خدمت کرو۔پھر میں اور زیادہ زور سے ان سے کہتا ہوں: اگر تمہارے مرد تمہاری بات نہیں مانتے اور وہ دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے اور تمہیں بھی دین کا کام نہیں کرنے دیتے تو تم ان کو چھوڑ دو اور انہیں بتا دو کہ تمہارا ان سے اسی وقت تک تعلق رہ سکتا ہے جب تک وہ دین کی خدمت کے لئے تیار رہتے ہیں اور یہ الفاظ کہتے کہتے میری آنکھ کھل گئی۔یہ رویا اس رویا سے جو پہلے شائع ہو چکی ہے اور جس میں ایک باغ اور ایک بادشاہ کا ذکر ہے ایک دو دن پہلے کی ہے۔“ ا نومبر 1951 ء کی رؤیا: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چکی الفضل 20 جون 1950ء صفحہ 2) میں نے دیکھا کہ گویا ہم قادیان سے ہجرت کر رہے ہیں۔یہ خیال نہیں آتا کہ وہی ہجرت ہے ہے اور اسی کا دوبارہ نظارہ دکھایا گیا ہے یا کوئی نئی ہجرت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی 312