مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 298 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 298

اس دنیوی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔اور اس میں تمہارے لئے وہ سب کچھ ہو گا جس کی تمہارے نفس خواہش کرتے ہیں اور اس میں تمہارے لیے وہ سب کچھ ہو گا جو تم طلب کرتے ہو۔(ترجمه از قرآن کریم اردو ترجمه از حضرت خلیفه امسیح الرابع رحمه الله تعالی) ط وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلَّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَرَآئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بَإِذْنِهِ مَا يَشَآءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ۔(سورة الشورى: 52) اور کسی انسان کیلئے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی پیغام رساں بھیجے جو اس کے اذن سے جو وہ چاہے وحی کرے۔یقیناً وہ بہت بلند شان (اور) حکمت والا ہے۔(ترجمه از قرآن کریم اردو ترجمه از حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ) رؤیا وکشوف کی اہمیت از روئے حدیث: عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبَيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يُحِبُّهَا فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ اللهِ تَعَالَى فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلِيْهَا وَلْيُحَدِّثُ بِهَا۔وَفِي رِوَايَةٍ فَلَا يُحَدِّثُ بِهَا إِلَّا مَنْ يُحِبُّ۔وَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ فَلْيَسْتَعِذْمِنْ شَرِّهَا وَلَا يَذْكُرُهَا لَاحَدٍ فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کوئی ایسی خواب دیکھے جو اس کو اچھی لگے تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک خوشخبری ہے اس لئے وہ اس خواب کو دیکھنے پر اللہ تعالیٰ کی حمد کرے اور لوگوں کو اپنا خواب بتائے۔ایک اور روایت میں ہے کہ ایسی خواب صرف اپنے دوستوں کے پاس بیان کرے اور جب وہ کوئی برا خواب دیکھے تو وہ شیطانی خواب ہو گا۔اس کے شر سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگے اور کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کے شر سے محفوظ رہے گا۔(ترجمه از حديقة الصالحین مصنفہ ملک سیف الرحمن صاحب) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالُوا مَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: اَلرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ۔(بخاری کتاب التعبير باب المبشرات و ترمذی کتاب الرؤيا) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبوت کا صرف مبشرات والا حصہ باقی رہ گیا ہے۔لوگوں نے پوچھا: مبشرات کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا اور سچا خواب ( بھی مبشرات کا حصہ ہے)۔( ترجمہ از حديقة الصالحین مصنفہ ملک سیف الرحمن صاحب) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِّنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءً مِنَ النُّبُوَّةِ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب زمانہ ختم ہونے کے قریب ہو گا یا فاصلوں کے سمٹ آنے کی وجہ سے قرب کا تصور بدل جائے گا تو مومن کا خواب بہت کم غلط ثابت ہو گا۔یعنی مومن کو سچی خوابیں آئیں گی۔مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں۔حصہ ہے۔298