مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 246
کروں گا آپ رضی اللہ عنہ کے ان چار لفظوں میں وہ سکینت تھی کہ بیان سے باہر ہے۔اگلی صبح کو جڑانوالہ پہنچا تو والد صاحب محترم چار پائی پر حسب معمول پان چبا رہے تھے۔بھائی سے شکوہ کیا کہ تم نے خواہ مخواہ تار دے کر پریشان کیا تو اس نے کہا کہ کل مغرب کے بعد ابا جی کی حالت معجزانہ طور پر اچھی ہونی شروع ہوئی اور خطرہ سے باہر ہوئی ورنہ مغرب سے پہلے سب علاج بے کار ثابت ہو کر حالت خطره والی، از حد تشویش ناک تھی پھر میں نے بتایا کہ میں نے کل مغرب کے بعد حضرت صاحب سے دعا کے لئے عرض کیا تھا یہ اسی کی (الفضل 17 اپریل 1966 ءصفحہ 4 ) برکت ہے۔“ مکرم فتح محمد صاحب مٹھیانی ربوہ لکھتے ہیں: 1921-22 ء میں جب میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے احمدیت کی نعمت سے مشرف ہوا اور میرے ساتھ ہی ہمارے گاؤں مٹھیانہ ضلع ہوشیار پور کے چار اور آدمی بھی احمدیت کے حلقہ بگوش ہو گئے تو گاؤں بلکہ علاقہ بھر میں ہماری مخالفت شروع ہو گئی جگہ جگہ ہمارے خلاف چرچا ہونے لگا۔بحث مباحثہ ہوتا رہتا تھا اور اختلافی مسائل پر گفتگو شروع رہتی جب ہمارے اعتراضات کا جواب دینے سے عاجز آگئے اور اپنے عقائد کی کمزوری ان کو نظر آنے لگی تو گاؤں کے بوڑھوں نے یوں کہنا شروع کر دیا ” کیا ہوا کہ یہ لوگ مرزائی ہو گئے ہیں ان کو ملتی تو لڑکیاں ہی ہیں؟ اتفاق سے ہم پانچوں کے ہاں جو کہ اس وقت احمدی ہوئے تھے لڑکیاں ہی لڑکیاں تھیں ، نرینہ اولاد کسی ایک کے پاس بھی نہ تھی۔اس بات کا میرے دل پر بڑا صدمہ ہوا اور میں اسی صدمہ کے زیر اثر اپنے پیارے امام (حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ) کے حضور نہایت عاجزی سے درخواست کی کہ ہم سب کے ہاں نرینہ اولاد ہونے کی دعا کریں تا اس بارہ میں بھی مخالفین کے منہ بند ہو جائیں۔حضرت صاحب نے جواب دیا کہ خداوند تعالیٰ آپ سب کو نرینہ اولاد دے گا چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کی دعا سے خداوند تعالیٰ نے ہم سب کو نرینہ اولاد سے نوازا اور اس رنگ میں نوازا کہ ہم اس کے حضور سجدہ تشکر بجا لائے۔“ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم: الفضل 28 اپریل 1966ء صفحہ 4 ) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”نادان انسان ہم پر الزام لگاتا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کو نبی مان کر گویا ہم آنحضرت صتلاقہ کی ہتک کرتے ہیں۔اسے کسی کے دل کا حال کیا معلوم اسے اس محبت اور پیار اور عشق کا علم کس طرح ہو جو میرے دل کے ہر گوشہ میں محمد رسول اللہ صل اللہ کے لئے ہے وہ کیا جانے کہ محمد مطلقہ کی محبت میرے اندر کس طرح سرایت کر گئی ہے۔وہ میری جان ہے، میرا دل ہے۔میری مراد ہے، میرا مطلوب ہے اس کی غلامی میرے لئے عزت کا باعث ہے اور اس کی کفش برداری مجھے تخت شاہی سے بڑھ کر معلوم دیتی ہے اس کے گھر کی جاروب کشی کے مقابلہ میں بادشاہت ھفت اقلیم بیچ ہے۔وہ خدا تعالیٰ کا پیا را ہے پھر میں کیوں اس سے پیار نہ کروں وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے پھر میں اس سے کیوں محبت نہ کروں، وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے پھر میں کیوں اس کا قرب نہ تلاش کروں۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (سوانح فضل عمر جلد 5 صفحه 362 ) 246