مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 238 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 238

حدیث عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ يَا اللهُ عَنْهُ قَالَ قِيْلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ آئنا خير مَنْ ذَكَّرَكُمُ اللَّهُ رُؤْيَتُهُ وَ زَادَ فِي عِلْمِكُمْ مَنْطِقُهُ وَ ذَكَّرَكُمْ بِالْآخِرَةِ عَمَلُهُ۔(الترغيب والترهيب - الترغيب فى المجالسة العلماء صفحه 86/1) ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلیقہ سے دریافت کیا گیا کہ کس کے پاس بیٹھنا بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے شخص کے پاس جس کو دیکھنے سے تمہیں خدا یاد آئے اور جس کی باتوں سے تمہارے علم میں اضافہ ہو اور جس کے عمل کو دیکھ کر تمہیں آخرت کا خیال آئے۔سیرت حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاجی الحرمین حضرت حافظ مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ 1841 ء میں بھیرہ میں پیدا ہوئے جو پنجاب کا ایک قدیم اور موجودہ پاکستان میں ضلع سرگودھا میں واقع ایک شہر ہے۔آپ رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام حافظ غلام رسول تھا۔آپ رضی اللہ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نسل سے تھے۔آپ رضی اللہ عنہ نے مارچ 1885ء میں قادیان پہنچ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کی اور 23 مارچ 1889ء میں لدھیانہ کے مقام پر سب سے پہلی بیعت میں سب سے پہلے بیعت کی۔27 مئی 1908ء کو 67 سال کی عمر میں جماعت احمدیہ کے پہلے امام اور خلیفہ اسیح الاوّل منتخب ہوئے۔13 مارچ بروز جمعہ 1914 ء کو مالک حقیقی سے جاملے اور 14 مارچ کو بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔تعلق باللہ: ایک دفعہ میں اچھے استاد کی تلاش میں وطن سے دور چلا گیا۔تین دن کا بھوکا تھا مگر کسی سے سوال نہیں کیا۔میں مغرب کے وقت ایک مسجد میں چلا گیا مگر وہاں کسی نے مجھے نہیں پوچھا اور نماز پڑھ کر سب چلے گئے۔جب میں اکیلا تھا تو مجھے باہر سے آواز آئی۔نور الدین! نور الدین! یہ کھانا آکر جلد پکڑ لو۔میں گیا تو ایک مجمع میں بڑا پر تکلف کھانا تھا۔میں نے پکڑ لیا۔میں نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ یہ کھانا کہاں سے آیا کیونکہ مجھے علم تھا کہ خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے۔میں نے خوب کھایا اور پھر برتن مسجد کی ایک دیوار کے ساتھ کھونٹی پر لٹکا دیا۔جب میں آٹھ دس دن کے بعد واپس آیا تو وہ برتن وہیں آویزاں تھا۔جس سے مجھے یقین ہو گیا کہ کھانا گاؤں کے کسی آدمی نے نہیں بھجوایا تھا۔خدا تعالیٰ نے ہی بھجوایا تھا۔“ (حیات نور صفحہ 254 ) حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: طالب علمی کے زمانہ میں ایک مرتبہ میں نے نہایت عمدہ صوف لے کر دو صدریاں بنوائیں اور انہیں الگنی رکھ دیا مگر ایک کسی نے چرا لی۔میں نے اس کے چوری ہو جانے پر خدا کے فضل سے اپنے دل میں کوئی تکلیف محسوس نہ کی بلکہ میں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ اس سے بہتر بنا دینا چاہتا ہے۔تب میں شرح صدر سے لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا اور صبر کے شکریہ میں دوسری کسی حاجت مند کو دے دی۔چند روز ہی اس واقعہ گزرے تھے کہ شہر کے ایک امیر زادہ کو سوزاک ہوا اور اس نے ایک شخص سے جو میرا بھی آشنا تھا کہا کہ کوئی س إِنَّا پر 238