مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 185
تحریر کیا: محترمہ رضوانہ شفیق صاحبہ اہلیہ مکرم قاضی شفیق احمد صاحب صدر جامعت احمد یہ آسٹریا نے اپنے خط محررہ 30 اکتوبر 2005 ء 66 دو " و جس روز حضور رحمہ اللہ ( حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی) کی وفات ہوئی خاکسارہ گھر پر ایم ٹی اے (M۔T۔A) سے براہ راست تمام نشریات دیکھ رہی تھی۔چونکہ میرے شوہر قاضی شفیق احمد وفات کے روز ہی لندن روانہ ہو گئے تھے سو اکیلی بیٹھی ٹی وی پر ہر ہر لمحہ دیکھتی رہی۔رات کو جب خلافت کمیٹی بیٹھی ہوئی تھی اور لوگ بے چینی سے دعائیں کرتے ہوئے خدا کی رحمت کے طلب گار تھے اور قدرت ثانیہ کا ایک نیا پہلو دیکھنے کے منتظر مسجد فضل لندن کے دروازے پر نظریں جمائے بیٹھے تھے تو خاکسارہ بھی یہ نظارہ M۔T۔A پر دیکھ رہی تھی کہ اچانک تھکن کی وجہ سے لمحہ بھر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی مگر سمجھ نہیں آتا کہ نیند کی حالت ہے یا خیال کی حالت ہے مگر ایک دم نور ہی نور آسمان سے اترتا دکھائی دیا جو بہت تیزی سے برق روئی سے زمین کی طرف بڑھتا ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ نور اس جگہ میں جہاں خلافت کمیٹی بیٹھی ہے داخل ہو گیا ہے اسی لمحہ دل میں یہ خیال پیدا ہو رہا ہے کہ اس بار خلیفہ اسیح کا نام حروف ابجد کے لفظ ” م “ سے شروع ہو گا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے وہ نور ” م “ نامی شخص ” مسرور میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ الفاظ دل میں گونجتے ہیں کہ جو میرے منہ سے جاری ہو گئے کہ اللہ نے اپنا خلیفہ چن لیا اور جس شخص میں اپنا نور بھرنا تھا بھر دیا۔ایسے ہی عالم میں ایک دم جیسے میری آنکھ کھل گئی ہو یا وہ نظارہ ٹوٹ گیا ہو اور وہ کیفیت ختم ہو جاتی ہے۔میرا جسم سخت کپکپانے لگا اور دل میں ایک خوف طاری ہو گیا کہ یہ میں نے کیا دیکھا ہے کون سی کیفیت سے گزری ہوں مگر دل کو یہ کامل یقین ہو گیا کہ خدا تعالیٰ نے اپنا فیصلہ فرما دیا ہے لوگوں پر ظاہر ہونا باقی ہے اس کا اور میں نے اسی وقت اپنے شوہر قاضی شفیق صاحب کو فون کیا جو کہ مسجد فضل لندن کے باہر ہی بیٹھے ہوئے تھے اور سارا واقعہ بیان کیا اور کہا خدا تعالیٰ نے اپنا خلیفہ منتخب کر لیا ہے اور یقیناً بس اعلان ہونا باقی ہے چونکہ خدا نے اس عام بندے میں اپنا نور منتقل کر کے اسے خاص بندے میں اپنا نور منتقل کر کے اسے خاص بندوں میں چن لیا ہے اتنے میں انہوں نے مجھے فون بند کرنے کو کہا کہ کوئی اعلان ہونے لگا ہے سو میں نے بھی یہ نظارہ اگلے ہی لمحہ M۔T۔A پر براہ راست دیکھا جس میں آپ مکرم عطاء المجیب صاحب راشد امام مسجد بیت الفضل لندن۔ناقل) اعلان فرما رہے تھے کہ حضرت خلیفة أسبح الخامس حضرت مرزا مسرور احمد ہمارے خلیفہ ہوں گے۔خدا تعالیٰ میرے پیارے آقا کو عمر دراز صحت تندرستی کے ساتھ عطا فرمائے اور ان کا بابرکت وجود تا دیر ہم میں قائم رکھے۔(آمین ثم آمین) وو (ہفت روزہ "البدر قادیان 20 دسمبر تا 27 دسمبر 2005 ء سالانہ ' سالانہ نمبر صفحہ 26) مکرم مبشر احمد صاحب طاہر مربی سلسلہ لودھراں پاکستان: مکرم مبشر احمد صاحب طاہر مربی سلسلہ لودھراں پاکستان اپنے خط محررہ 28 را پریل 2003ء میں تحریر کرتے ہیں: فروری 2003ء کی آخری تاریخیں تھیں میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ وفات پا گئے ہیں۔خواب میں ہی ہمیں اتنا غم تھا روئے چلا جا رہا تھا اور ظاہری آنسو بھی محسوس کر رہا تھا کچھ دیر بعد روتے روتے میں کہہ رہا تھا کہ حضور تو فوت ہو گئے ہیں اب نیا خلیفہ کون ہو گا؟ معاً میرے دل میں ڈالا گیا کہ مرزا مسرور احمد جو ہیں یہ خواب میں نے اپنے امیر صاحب ضلع چودھری منیر احمد صاحب کو بھی سنائی 185