مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 184 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 184

دیکھ کہ جس شخصیت کو خلیفہ بننے کیلئے میں ووٹ دینا چاہتا تھا وہ شخصیت میرے پیچھے کھڑی ہے میں نے اپنے دل میں کہا کہ جس کو میں خلیفہ کے لئے ووٹ دینا چاہتا ہوں یہ نامناسب لگتا ہے کہ میں اس کے آگے کھڑا ہوں لہذا اس قطار سے نکل کر آخر پر آ گیا۔اس وقت دو آدمی آئے ایک چودھری حمید اللہ صاحب تھے جبکہ دوسری شخصیت کو میں نہیں جانتا تھا لیکن ایک برقی چمک کی سی تیزی سے وہ شخصیت میرے دل میں اُتر گئی اور میں سوچنے لگا کہ آخر یہ ہیں کون؟ اور اس سوچ کا عالم یہ تھا کہ مجھے یوں محسوس ہوا کہ شاید میں مسجد میں داخل ہونے سے قبل ہی مر جاؤں گا۔دوران اجلاس مرزا مسرور احمد صاحب کو دیکھ کر میں نے کہا یہ تو وہی ہیں جن کی صورت برق رفتاری سے میرے دل میں اتر چکی ہے۔لہذا وقت انتخاب میں نے انہی کے لئے ووٹ دینے کو ہاتھ کھڑا کیا تو دیکھا اکثریت نے ووٹ انہی کو دیا۔یوں غم کی کیفیت جاتی رہی اور ایسی خوشی نصیب ہوئی کہ مجھے زندگی ایسی خوشی کوئی نہیں ملی۔واپسی پر فلسطین میں مکرم ہانی طاہر کے گھر مکرم امجد کمیل سے ملاقات ہوئی جن کے گھر ایم ٹی اے نہیں تھا اور انہوں ابھی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی تصویر نہیں دیکھی تھی اس ملاقات میں میں نے ان کو حضور کی تصویر دکھائی تو انہوں نے بے ساختہ کہا کہ یہ تو وہی ہیں جن سے میں نے رویا میں ملاقات کی تھی حتیٰ کہ کوٹ اور کرسی بھی وہی ہیں۔اب میں تمام منافقین کو کہتا ہوں کہ اگر حضرت مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ کو خدا نے خلیفہ نہیں بنایا تو بتائیں کہ کس نے قبل از وقت مکرم امجد کمیل کو ان کی صورت دکھا دی؟ اور کس نے مجھے قطار سے نکل کر پیچھے جانے پر مجبور کیا؟ اور مجھے وہ صورت دکھا دی جو میرے دل میں اتر گئی جس کو میں جانتا تک نہیں؟“ (ہفت روزہ ”البدر قادیان 20 دسمبر تا 27 دسمبر 2005ء سالانہ نمبر صفحہ 24) محترم محمد امین جواہر صاحب امیر جماعت ماریشس (Maritius): محترم محمد امین جواہر صاحب امیر جماعت ماریشس نے 24 اپریل 2003ء کو حضور انور کے نام ایک خط انگریزی میں لکھا۔اس کا خلاصہ اردو میں حسب ذیل ہے: ”ہفتہ کی رات کو جب میں ائیر ماریشس کے جہاز میں لندن آ رہا تھا تو میں نے بہت دعا کی توفیق پائی۔میں نے خدا سے عرض کیا کہ میں بہت کمزور اور عاجز انسان ہوں مگر تو نے مجھے مجلس انتخاب خلافت میں شامل کر دیا ہے۔خدایا! میری بھی اور ساری مجلس انتخاب کی رہنمائی فرما کر وہ اسی شخص کا انتخاب کریں جس کے بارہ میں دراصل تو نے خود فیصلہ کیا ہے کہ وہ خلیفہ منتخب ہو۔رات کے ایک سے چار بجے کے درمیان جبکہ ابھی میں جہاز ہی میں تھا۔میں نے آٹھ رکعت نماز تہجد ادا کی بعد ازاں آرام کے دوران دوبارہ میری زبان پر لفظ مسرور آیا اور ذہن میں بھی یہی خیال آیا۔اس وقت سے مجھے یقین ہو گیا کہ یہ خدا کی طرف سے ایک رہنمائی ہے۔اگرچہ اس سے پہلے مجھے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کچھ زیادہ علم نہیں تھا۔میں نے صرف ربوہ میں بطور ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی حضور کی مصروفیات کے بارہ میں کچھ پڑھا ہوا تھا۔ماریشس سے روانگی سے پہلے میرے ذہن میں ایک اور شخص کا نام تھا لیکن میں نے اس کا ذکر کسی سے نہ کیا۔“ (ہفت روزہ ” البدر قادیان 20 دسمبر تا 27 دسمبر 2005ء سالانہ نمبر صفحہ 26) محترمه رضوانه شفیق صاحبہ اہلیہ مکرم قاضی شفیق احمد صاحب صدر جماعت احمدیہ آسٹریا (Austria): 184