مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 161 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 161

یہ صحیح ہے کہ ہمارا لٹریچر مقبول ہوا ، مگر وہ پھل کیوں نہ لگا جو لگنا چاہیے۔صرف اس لئے کہ وہاں کام کرنے والا کوئی نہیں تھا۔“ (پیغام صلح 19 مئی 1937 ء) مولوی محمد یعقوب صاحب ایڈیٹر لائٹ (LIGHT) منکرین خلافت کی تحریک کی حالت یوں بیان کرتے ہیں: " تحریک ایک لاش بن کر رہ گئی تھی اور چند آدمی اسے نوچ نوچ کر کھا رہے تھے۔“ قدرت ثانیہ کا دائگی ہوتا: (پیغام صلح 24 جنوری 1954 ء ) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اے تمام لوگو سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلادے گا اور حجت اور برہان کے رُو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہو گا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا۔یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی۔“ دو (تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 66) سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: د سواے عزیزو! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک دیوے۔اس لئے میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی عملین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک میں نہ جاؤں۔لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دونگا۔سو ضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائی وعدہ کا دن ہے۔“ (رساله الوصیت روحانی خزائن۔جلد نمبر 20 صفحہ 306-305) سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: کفار کی شہادتیں قرآن شریف میں موجود ہیں کہ وہ بڑے دعوے سے کہتے ہیں کہ اب یہ دین جلد تباہ ہو جائے گا اور ناپدید ہو جائے گا ایسے وقتوں میں ان کو سنایا گیا کہ يُرِيدُونَ اَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (سورة التوبة آيت : 32) یعنی یہ لوگ اپنے منہ کی لاف و گزاف سے بکتے ہیں کہ اس دین کو کبھی کامیابی نہ ہو گی یہ دین ہمارے ہاتھ سے تباہ ہو جاوے سے تباہ ہو جاوے گا لیکن خدا کبھی اس دین کو ضائع نہیں کرے گا اور نہیں چھوڑے گا جب تک اس کو پورا نہ کرے پھر ایک اور آیت میں فرمایا ہے وَعَدَ اللَّهُ الَّذِيْنَ آمَنُوا۔۔۔۔۔(سوره النور آیت (56) یعنی خدا وعده دے چکا ہے کہ اس دین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفے 161