مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 162 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 162

پیدا کرے گا اور قیامت تک اس کو قائم کرے گا۔یعنی جس طرح موسیٰ کے دین میں مدت ہائے دراز تک خلیفے اور بادشاہ بھیجتا رہا ایسا ہی اس جگہ بھی کرے گا اور اس کو معدوم ہونے نہیں دے گا۔“ (جنگ مقدس - روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 290) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: " میں آپ کو ایک خوشخبری دیتا ہوں کہ اب آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ خلافت احمدیہ کو کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔جماعت بلوغت کے مقام پر پہنچ چکی ہے خدا کی نظر میں۔اور کوئی دشمن آنکھ ، کوئی دشمن دل، کوئی ئن کوشش اس جماعت کا بال بھی بیکا نہیں کر سکے گی اور خلافت احمدیہ انشاء اللہ تعالیٰ اسی شان کے ساتھ نشوونما پاتی رہے گی جس شان سے اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدے فرمائے ہیں کہ کم از کم ایک ہزار سال تک یہ جماعت زندہ رہے گی۔تو دعائیں کریں حمد کے گیت گائیں اور اپنے عہدوں کی پھر تجدید کریں۔“ (الفضل 28 جون 1982ء) اپنے حضرت خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: " آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ سے جماعت احمدیہ کی تاریخ کا وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے محض اور محض فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل لوگوں کی ، آپ کی وفات کے بعد، خوف کی حالت کو امن میں بدلا اور اپنے وعدوں کے مطابق جماعت احمدیہ کو تمکنت عطا فرمائی یعنی اس شان اور مضبوطی کو قائم رکھا جو پہلے تھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی فعلی شہادت سے یہ ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فرستادہ اور نبی تھے اور آپ وہی خلیفہ اللہ تھے جس نے چودھویں صدی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہوئی شریعت کو دوبارہ دنیا میں قائم کرنا تھا اور آپ علیہ السلام کے بعد پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق آپ کا سلسلہ خلافت تا قیامت جاری رہنا تھا۔پس آج 97 سال گزرنے کے بعد جماعت احمدیہ کا ہر بچہ ، جوان، بوڑھا، مرد، اور عورت اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی اس بارہ میں فعلی شہادت گزشتہ 97 سال سے پوری ہوتی دیکھی ہے اور دیکھ رہا ہوں۔اور نہ صرف احمدی بلکہ غیر از جماعت بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔“ (خطبه جمعه فرمودہ 27 مئی 2005 ء - الفضل انٹرنیشنل 10 تا 16 جون 2005ء) سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 11 مئی 2003ء کو احباب جماعت کے نام ایک خصوصی پیغام میں فرمایا: ،، و پس اس قدرت کے ساتھ کامل اخلاص اور محبت اور وفا اور عقیدت کا تعلق رکھیں اور خلافت کی اطاعت کے جذبہ کو دائمی بنا ئیں او اس کے ساتھ محبت کے جذبہ کو اس قدر بڑھائیں کہ اس محبت کے بالمقابل دوسرے تمام رشتے کمتر نظر آئیں۔امام سے وابستگی میں ہی سب برکتیں ہیں اور وہی آپ کے لئے ہر قسم کے فتنوں اور ابتلاؤں کے مقابلہ کے لئے ایک ڈھال ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی اصلح الموعود نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: ”جس طرح وہی شاخ پھل لا سکتی ہے جو درخت کے ساتھ ہو وہ کئی ہوئی شاخ پھل پیدا نہیں کر سکتی جو درخت سے جدا ہو۔اس طرح وہی شخص سلسلہ کا مفید کام کر سکتا ہے جو اپنے آپ کو امام سے وابستہ رکھتا ہے اگر کوئی شخص امام کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہ رکھے تو خواہ وہ دنیا بھر کے علوم جانتا ہو وہ اتنا بھی کام نہیں کر سکے گا جتنا بکری کا بکر وٹا۔پس اگر آپ نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے تو میری آپ کو یہی 162