مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 145 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 145

پر فخر رکھتا اور ابواب ہدایت کے فتح ( کھولنے۔ناقل ) میں اس سے مساوات رکھتا ہو۔مِنْ جُمله مذکورہ امور کے ایک اتمام امر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مامور ہوئے تھے اور اس کی ادائیگی امام سے بھی ظاہر ہوئی چنانچہ قرآن میں ہے: قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں، اور ظاہر ہے کہ تبلیغ رسالت تمام انسانوں کی نسبت آنجناب سے ثابت نہیں بلکہ امر دعوت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہو کر يَوْمًا فَيَوما خلفات راشدین اور ائمہ مہدیبین کے واسطہ سے ترقی کو پہنچا یہاں تک کہ امام مہدی علیہ السلام کے واسطہ سے تکمیل پائے گا اسی نیابت کو مذکورہ امور میں وصایا کہا گیا ہے۔یعنی جس طرح وقتی ادائے حقوق اور طلب میں منیب (یعنی نائب بنانے والے۔ناقل ) کا قائم مقام ہوتا ہے اسی طرح امام بھی ان معاملات میں جو خدا اور اس کے رسول کے درمیان منعقد ہوئے پیغمبر کا قائم مقام ہے۔“ وَاخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ظهور امام مهدی از حضرت مسیح موعود علیه السلام: حضرت مسیح موعود علیہ السلام ظہور امام مہدی کے بارے میں فرماتے ہیں: روزنامه الفضل ربوہ خلافت نمبر 25 مئی 1976 صفحہ 6 تا 7) مولوی صدیق حسن خان صاحب مرحوم نے جن کو مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب مجدد قرار دے چکے ہیں اپنی کتاب آثار القیامۃ کے صفحہ 395 میں بتفریح لکھا ہے کہ ظہور مہدی اور نزول عیسی اور خروج دجال ایک ہی صدی میں ہو گا۔پھر لکھا ہے کہ امام جعفر صادق کی یہ پیشگوئی تھی کہ دو سو 200 ہجری میں مہدی ظہور فرمائے گا لیکن وہ برس تو گزر گئے اور مہدی ظاہر نہ ہوا۔اگر اس پیشگوئی کی کسی کشف یا الہام پر بنا تھی تو تاویل کی جاوے گی یا اس کشف کو غلط ماننا پڑے گا۔پھر بیان کیا کہ اہل سنت کا یہی مذہب ہے کہ الايـــات بــعــد الْمِاتَينِ یعنی بارہ سو برس کے گزرنے کے بعد یہ علامات شروع ہو جائیں گی اور مہدی مسیح اور دجال کے نکلنے کا وقت آ جائے گا پھر نعیم بن حماد کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ ابوقبیل کا قول ہے کہ بارہ سو چار 1204 ہجری میں مہدی کا ظہور ہو گا لیکن یہ قول بھی صحیح نہ نکلا پھر بعد اس کے شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی کا ایک کشف لکھتے ہیں کہ ان کو تاریخ ظہور مہدی کشفی طور پر چراغ دین کے لفظ میں بحساب جمل منجانب اللہ معلوم ہوئے تھے یعنی 1268 ہجری۔پھر لکھتے ہیں کہ یہ سال بھی گزر گئے اور مہدی کا دنیا میں کوئی نشان نہ پایا گیا۔اس سے معلوم ہوا کہ شاہ ولی اللہ کا یہ کشف یا الہام صحیح نہیں تھا میں کہتا ہوں کہ صرف مقررہ سالوں کا گزر جانا اس کشف کی غلطی پر دلالت نہیں کرتا ہاں غلط فہمی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ پیشگوئیوں کے اوقات معینہ قطعی الدلالت نہیں ہوتے بسا اوقات ان میں ایسے استعارت بھی ہوتے ہیں کہ دن بیان کئے جاتے ہیں اور ان سے برس مراد لئے جاتے ہیں۔پھر قاضی ثناء اللہ پانی پتی کے رسالہ سیف صفحہ 566 مسلول کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں کہ رسالہ مذکور میں لکھا ہے کہ علمائے ظاہری اور باطنی کا اپنے ظن اور تخمین سے اس بات پر اتفاق ہے کہ تیرھویں صدی کے اوائل میں ظہور مہدی ہو گا۔پھر لکھتے ہیں کہ بعض مشائخ اپنے کشف سے یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ مہدی کا ظہور بارہ سو برس سے پیچھے ہوگا اور تیرہویں صدی سے تجاوز نہیں کرے گا۔پھر لکھتے ہیں کہ یہ سال تو گزر گئے اور تیرھویں صدی سے صرف دس برس رہ گئے اور اب تک نہ مہدی نہ عیسی دنیا میں آئے۔یہ کیا 145