مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 144
یعنی وہ خلافت ” منتظمہ محفوظ ہو گی کیونکہ اس کی تعریف میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ لَطَوَّلَ اللهُ ذَالِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ فِيهِ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِى يُوَاطِيَّ اسْمُهُ اِسْمِي وَاسْمُ أَبِيهِ اِسْمُ اَبى يَمُلا الْأَرْضَ قِسْطَا وَّعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا۔اگر دنیا میں سے ، کچھ باقی نہ رہے مگر ایک دن کہ لمبا کر دے اسے اللہ تعالیٰ یہاں تک کہ اُٹھاوے اللہ تعالیٰ ایک آدمی میرے اہل بیت سے میرے ہمنام اور اس کے باپ کا نام بھی میرے باپ کے ہمنام ہو گا۔بھر جائے زمین خوبی اور انصاف سے، جیسا کہ بھری ہو ظلم اور جور سے۔نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔آتَاهُ اَبْدَالُ الشَّامِ وَ عَصَائِبُ اَهْلِ الْعِرَاقِ فَبَايِعُونَهُ۔“ شام کے ابدال اور عراق کے بزرگ اس کے پاس آ کر بیعت کریں گے۔نیز وارد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْمَهْدِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَشْبَهُ فِي الْخُلُقِ مہدی علیہ السلام خلق میں میرے مشابہ ہوں گے۔نزول نعمت الہی یعنی ظہور خلافت راشدہ سے کسی زمانہ میں مایوس نہ ہونا چاہیے اور اسے مجیب الدعوات سے طلب کرتے رہنا چاہیے اور اپنی دعا کی قبولیت کی امید رکھنا اور خلیفہ راشد کی جستجو میں ہر وقت ہمت صرف کرنا چاہیے۔شاید کہ یہ نعمت کا ملہ اسی زمانہ میں ظہور فرما دے اور خلافت راشدہ اسی وقت ہی جلوہ گر ہو جائے۔خلیفہ راشد سایۂ رب العالمین، ہمسایہ انبیا و مرسلین، سرمایہ ترقی دین اور ہم پائیہ ملائکہ مقربین ہے۔دائرہ امکان کا مرکز ، تمام وجوہ سے باعث فخر اور ارباب عرفان کا افسر ہے۔دفتر افراد انسی (یعنی تمام انسانوں۔ناقل) کا سر ہے، اُس کا دل بجلی رحمان کا عرش اور اس کا سینہ رحمت و افراہ اور اقبال و جلال یزدان کا پرتو ہے۔اس کی مقبولیت جمال ربانی کا عکس ہے۔اس کا قہر تیغ قضا اور مہر عطیات کا منبع ہے۔اس سے اعراض، معارضہ، تعزیر اور اس سے مخالفت ، مخالفت رب قدیر ہے جو کمال اس کی خدمت گزاری میں صرف نہ ہو، خیال ہے پُر از خلل اور جو علم اس کی تعظیم و تکریم کے بیان میں نہ لایا گیا سراسر وہم باطل و محال ہے جو صاحب کمال اس کے ساتھ اپنے کمال کا موازنہ کرے وہ مشارکت حق تعالیٰ پر مبنی ہے۔اہل کمال کی علامت یہی ہے کہ اس کی خدمت میں مشغول اور اس کی اطاعت میں مبذول رہیں اس کی ہمسری کے دعویٰ سے دستبردار رہیں اور اسے رسول کی جگہ شمار کریں۔خلیفہ راشد رسول کے فرزند و ولی عہد کی بجائے اور دوسرے ائمہ دین بمنزلہ دوسرے بیٹوں کے ( ہیں۔ناقل) پس جیسا کہ تمام فرزندوں کی سعادت مندی کا تقاضا یہی ہے کہ جس طرح وہ مراتب پاس داری و خدمت گزاری اپنے باپ کے حق میں ادا لاتے ہیں وہ بتمامہ اپنے باپ کے جانشین بھائی سے بجا لائیں اور اسے اپنے باپ کی جگہ شمار کریں اور اس کے ساتھ مشارکت کا دم نہ بھریں بلکہ وزارت کے منصب پر مصلحت کا خیال رکھیں ایسے ہی ائمہ ہدی کی امامت کا تقاضا یہی ہے کہ جس طرح پیغمبر کی اطاعت اور اطاعت۔۔۔۔بجا لانا ہے اسی طریق سے اپنے اختیار کی باگ خلیفہ راشد کے ہاتھ میں دے دیں اور ہر طریقہ سے اس کی تابع داری میں گردن تسلیم خم رکھیں گو ان میں سے ہر ایک منازل وجاہت میں مانند علم و مقامات ولایت میں راسخ القدم اور نزول کلام الہام میں اس کے ساتھ مشابہت اور توجیہ خطاب شریک منصب بعثت اور رسالت میں ایک دوسرے 144