مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 136
پر سیزن (season) ہے تو جیسا کہ میں نے کہا اِکا دُکا یہ شکایات پیدا ہو جاتی ہیں اس لئے چند مہینے خاص طور نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ویسے تو جب بھی اور جہاں بھی اس قسم کی حرکتیں ہو رہی ہوں فوری نوٹس لینا چاہئے لیکن ان دنوں میں جیسا کہ میں نے کہا شادیوں کی کثرت کی وجہ سے ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی بھی ایسی حرکتیں سرزرد ہوتی ہیں۔حالانکہ غیروں کو جب ہم اپنی شادیوں پر بلاتے ہیں تو ان کی اکثریت جو ہے وہ ہماری شادی کے طریق کو پسند کرتی ہے کہ تلاوت کرتے ہیں، دعائیہ اشعار پڑھتے ہیں، دعا کرتے ہیں اور بچی کو رخصت کرتے ہیں اور یہی طریق ہے جس سے اس جوڑے کے ہمیشہ پیار محبت سے رہنے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننے کے لئے دعائیں کر رہے ہوتے ہیں اور اس کی آئندہ نسل کے لئے اولاد کیلئے بھی نیک صالح ہونے کی دعائیں کر رہے ہوتے ہیں۔ہاں جیسا کہ میں نے کہا کہ لڑکی کی شادی کے وقت دعائیہ اشعار کے ساتھ خوشی کے اظہار کے لئے شریفانہ قسم کے دوسرے شعر بھی پڑھے جا سکتے ہیں اور یہ ہر علاقے کے رسم و رواج کے مطابق جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ نے فرمایا تھا کہ انصار پسند کرتے ہیں تو یہ نہیں فرمایا کہ ضرور ہونا چاہئے بلکہ فرمایا کہ انصار پسند کرتے ہیں۔یہ خاص خاص لوگ ہیں جو پسند ہیں اور اس میں کیونکہ کوئی شرک کا اور دین سے ہٹنے کا اور کسی بدعت کا پہلو نہیں تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کرنا چاہئے کوئی حرج نہیں ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ ہر ایک، ہر قبیلہ، ضرور دف بجایا کرے اور یہ ضروری ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اپنے رواج کے مطابق، ایسے رواج جو دین میں خرابیاں پیدا کرنے والے نہ ہوں ان کے مطابق خوشی کا اظہار کر لیا کرو یہ ہلکی پھلکی تفریح بھی ہے اور اس کے کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں لیکن ایسی حرکتیں جن سے شرک پھیلنے کا خطرہ ہو، دین میں بگاڑ پیدا ہونے کا خطرہ ہو اس کی بہر حال اجازت نہیں دی جاسکتی۔شادی بیاہ کی جو رسم ہے یہ بھی ایک دین ہی ہے جبھی تو آنحضرت ملاقہ نے فرمایا تھا کہ جب تم شادی کرنے کی سوچو تو ہر چیز پر فوقیت اس لڑکی کو دو، اس رشتے کو دو جس میں دین زیادہ ہو اس لئے یہ کہنا کہ شادی بیاہ صرف خوشی کا اظہار ہے، خوشی ہے اور اپنا ذاتی ہمارا فعل ہے، یہ غلط ہے۔یہ ٹھیک ہے جیسا کہ پہلے بھی میں کہ آیا ہوں کہ اسلام یہ نہیں کہتا کہ تارک الدنیا ہو جاؤ اور بالکل ایک طرف لگ جاؤ لیکن اسلام بھی نہیں کہتا کہ کہ دنیا میں اتنے کھوئے جاؤ کہ دین کا ہوش ہی نہ رہے۔اگر شادی بیاہ صرف شور وغل اور رونق اور گانا بجانا ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ نے نکاح کے خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ شروع ہو کر اور پھر تقویٰ اختیار کرنے کی طرف اتنی توجہ دلائی ہے بلکہ شادی کہ ہر نصیحت اور ہر ہدایت کی بنیاد ہی تقویٰ پر ہے۔پس اسلام نے اعتدال کے اندر رہتے ہوئے جن جائز باتوں کی اجازت دی ہے ان کے اندر ہی رہنا چاہئے اور اس اجازت سے ناجائز فائدہ نہیں اُٹھانا چاہئے، حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے کہ دین میں بگاڑ پیدا ہو جائے۔اس لئے ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک مومن کے لئے ایک ایسے انسان کے لئے جو مسلمان ہونے کا دعوی کرتا ہے شادی نیکی پھیلانے، نیکیوں پر عمل کرنے اور نیک نسل چلانے کے لئے کرنی چاہئے اور یہی بات شادی کرنے والے جوڑے کے والدین، عزیزوں اور رشتہ داروں کو بھی یاد رکھنی چاہئے۔ان کے ذہنوں میں بھی یہ بات ہونی چاہئے کہ یہ شادی ان مقاصد کے لئے ہے نہ صرف نفسانی اغراض اور لہو و لعب کے لئے۔آنحضرت ملاقہ نے بھی شادیاں کی تھیں اور اسی غرض کے لئے کی تھیں اور یہ اُسوہ ہمارے سامنے قائم فرمایا کہ شادیاں کرو اور دین کی خاطر کرو۔یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی۔نہ ان لوگوں کو پسند فرمایا جو صرف عبادتوں میں لگے رہتے ہیں اور دین کی خدمت میں ڈوبے رہتے ہیں، نہ اپنے نفس کے حقوق ادا کرتے ہیں نہ بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دیتے ہیں، نہ اُن لوگوں کو پسند کیا جو دولت کے لئے، 136