مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 135
پر نسلیں لگا دیتے ہیں کہ ان کو سن کر شرم آتی ہے۔ایسے بے ہودہ اور لغو اور گندے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں کہ پتہ نہیں لوگ سنتے کس طرح ہیں؟ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ احمدی معاشرہ بہت حد تک ان لغویات اور فضول حرکتوں سے محفوظ ہے لیکن جس تیزی سے دوسروں کی دیکھا دیکھی ہمارے پاکستانی ہندوستانی معاشرہ میں یہ چیزیں راہ پا رہی ہیں۔دوسرے مذہب والوں کی دیکھا دیکھی جنہوں نے تمام اقدار کو بھلا دیا ہے اور ان کے ہاں تو مذہب کی کوئی اہمیت نہیں رہی، شرابیں پی کر خوشی کے موقع پر ناچ گانے ہوتے ہیں، شور شرابے ہوتے ہیں، طوفان بد تمیزی ہوتا ہے کہ اللہ کی پناہ! تو جیسا کہ میں نے کہا کہ اس معاشرے کے زیر اثر احمدیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے بلکہ بعض اکا دُکا شکایات مجھے آتی بھی ہیں، تو یاد رکھیں کہ احمدی نے ان لغویات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا ہے اور بچنا ہے۔بعض ایسے بیہودہ گانے گائے جاتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا یہ ہندو اپنے شادی بیاہوں پر تو اس لئے گاتے ہیں کہ وہ دیوی دیوتاؤں کو پوجتے ہیں۔مختلف مقاصد کے لئے مختلف قسم کی مورتیاں انہوں نے بنا ہوتی ہیں جن کے انہوں نے نام رکھے ہوئے ہیں۔ان سے مدد طلب کر رہے ہوتے ہیں اور ہمارے لوگ بغیر سوچے سمجھے یہ گانے گا رہے ہوتے ہیں یا سن رہے ہوتے ہیں۔اس خوشی کے موقع بجائے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو طلب کرنے کے کہ اللہ تعالیٰ یہ شادی ہر لحاظ سے کامیاب فرمائے ، آئندہ اسلام کی خادم پیدا ہوں، اللہ تعالیٰ کی سچی عباد بننے والی نسلیں ہوں، غیر محسوس طور پر گانے گا کر شرک کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔پس جو شکایات آتی ہیں ایسے گھروں کی ان کو میں تنبیہ کرتا ہوں کہ ان لغویات اور فضولیات سے بچیں۔پھر ڈانس ہے، ناچ ہے، لڑکی کی جو رونقیں لگتی ہیں اس میں یا شادی کے بعد جب لڑکی بیاہ کر لڑکے کے گھر جاتی ہے وہاں بعض دفعہ اس قسم کے، بیہودہ قسم کے میوزک یا گانوں کے اوپر ناچ ہو رہے ہوتے ہیں اور شامل ہونے والے عزیز رشتہ دار اس میں شامل ہو جاتے ہیں تو اس کی کسی صورت میں بھی اجازت نہیں دی جاسکتی۔بعض گھر جو دنیا داری میں بہت آگے بڑھ گئے ہیں ان کی ایسی رپورٹس آتی ہیں اور کہنے والے پھر کہتے ہیں کہ کیونکہ فلاں امیر آدمی تھا اس لئے اس پر کاروائی نہیں ہوئی یا فلاں عہد یدار کا رشتہ دار عزیز تھا اس لئے اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی، اس سے صرف نظر کیا گیا ہے، غریب آدمی اگر یہ حرکتیں کرے تو اسے سزا ملتی ہے۔بہر حال یہ تو بعض دفعہ لوگوں کی بد ظنیاں بھی ہیں لیکن جب اس طرح صرف نظر ہو جائے چاہے غلطی سے ہو جائے اور لگے تو یہ بدظنیاں پیدا ہوتی ہیں۔اس بارے میں واضح بہ کر دوں کہ ایسی حرکتیں جو جماعتی وقار کی اور اسلامی تعلیم اور اقدار کی دھجیاں اُڑاتی ہوں اگر مجھے پتہ لگ جائے تو ان پر میں بلا استثنا، بغیر کسی لحاظ سے کاروائی کروں گا اور کی بھی جاتی ہے اس لئے یہ بد ظنیاں دُور ہونی چاہئیں۔بعض لوگ اکثر مہمانوں کو رخصت کرنے کے بعد اپنے خاص مہمانوں کے ساتھ علیحدہ پروگرام بناتے ہیں اور پھر اسی طرح کی لغویات اور ہلڑ بازی چلتی رہتی ہے، گھر میں علیحدہ ناچ ڈانس ہوتے ہیں چاہے لڑکیاں لڑکیاں ہی ڈانس کر رہی ہوں یا لڑکے لڑکے بھی کر رہے ہوں لیکن جن گانوں اور میوزک پر ہو رہے ہوتے ہیں وہ ایسی لغو ہوتی ہیں کہ وہ برداشت نہیں کی جاسکتیں اس لئے آج میں خاص طور پر پاکستان اور ہندوستان اور س معاشرے کے لوگوں کو جہاں ہندووانہ رسم و رواج تیزی سے راہ پا رہے ہیں، داخل ہو رہے ہیں، ان کے احمدیوں کو کہتا ہوں کہ اس سلسلہ میں اپنی اصلاح کر لیں اور جماعتی نظام اور ذیلی تنظیموں کا نظام جو ہے یہ بھی ان بیاہ شادیوں پر نظر رکھے اور جہاں کہیں بھی اس قسم کی بیہودہ فلموں کے ناچ گانے یا ایسے گانے جو سراسر شرک پھیلانے والے ہوں دیکھیں تو ان کی رپورٹ ہونی چاہئے۔اس بارے میں قطعا کوئی ڈرنے کی ضرورت نہیں کہ کوئی کس خاندان کا ہے اور کیا ہے؟ آج کل پاکستان میں کیونکہ شادیوں کا 135