مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 137 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 137

137 الله خوبصورتی کے لئے ، اعلیٰ خاندان کے لئے رشتہ جوڑتے ہیں یا جو ہر وقت اپنی دنیا داری اور بیوی بچوں کے غم میں ہی مصروف رہتے ہیں، نہ اُن کے پاس عبادت کے لئے وقت ہوتا ہے اور نہ دین کی خدمت کے لئے کوئی وقت ہوتا ہے۔خلاصہ یہ کہ نہ اسلام یہ کہتا ہے کہ دنیا میں اتنے پڑ جاؤ کہ دین کو بھول جاؤ، نہ یہ کہ بالکل ہی تجرد کی زندگی اختیار کرنا شروع کر دو اور دنیا داری سے ایک طرف ہو جاؤ۔ایک دفعہ آنحضرت صلیہ کو پتہ چلا کہ کسی صحابی نے کہا ہے کہ میں شادی نہیں کروں گا اور مسلسل عبادتوں میں اور روزوں میں وقت گزاروں گا۔تو آپ مکی اللہ نے فرمایا کہ یہ کیسے لوگ ہیں؟ میں تو عبادتیں بھی کرتا ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں، بندوں کے دوسرے حقوق بھی ادا کرتا ہوں، شادیاں بھی کی ہیں۔پس جو شخص میری سنت سے منہ موڑتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔پھر اسلام کسی بھی طرف جھکاؤ سے منع کرتا ہے۔اپنا اُسوہ حسنہ آنحضرت ملالہ نے ہمارے سامنے رکھ دیا۔نہ افراط کرو نہ تفریط کرو۔آخر میں جو فرمایا کہ جو میری سنت سے منہ موڑتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔اس میں ان لوگوں کے لئے بھی وارنگ (warning) ہے جو یہ کہتے ہیں کہ شادی صرف خوشی کا نام ہے اور اس میں ہر طرح جو مرضی کر لو کوئی حرج نہیں۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر کہ جو میری سنت سے منہ موڑتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے یعنی افراط کرنے والوں کو بھی بتا دیا کہ لغویات سے بچنا، نیکیوں کو قائم کرنا بلکہ تقویٰ کے اعلیٰ ترین معیار حاصل کرنا میری سنت ہے اس لئے تم بھی نیکیوں پر چلنے کی اور لغویات سے بچنے کی، لہو ولعب سے بچنے کی میری سنت پر عمل کرو۔بعض لوگ بعض شادی والے گھر جہاں شادیاں ہو رہی ہوں دوسروں کی باتوں میں آکر یا ضد کی وجہ سے یا دکھاوے کی وجہ سے کہ فلاں نے بھی اس طرح گانے گائے تھے، فلاں نے بھی یہی کیا تھا تو ہم بھی کریں گے اپنی نیکیوں کو برباد کر رہے ہوتے ہیں۔اس سے بھی ہر احمدی کو بچنا چاہئے۔فلاں نے اگر ایسا کیا تھا تو اس نے اپنا حساب دینا ہے اور تم نے اپنا حساب دینا ہے۔اگر دوسرے نے یہ حرکت کی تھی اور پتہ نہیں لگا اور نظام کی پکڑ سے بھی بچ گیا تو ضروری نہیں کہ تم بھی بچ جاؤ۔تو سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ سب کام کرنے ہیں یا نیکیاں کرنی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی خاطر کرنی ہیں، وہ تو دیکھ رہا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کے لئے ہر اس چیز سے بچنا ہو گا جو دین میں برائی اور بدعت پیدا کرنے والی ہے۔اس برائی کے علاوہ بھی بہت سی برائیاں ہیں جو شادی بیاہ کے موقع کی جاتی ہیں اور جن کی دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی کرتے ہیں۔اس طرح معاشرے میں یہ برائیاں جو ہیں اپنی جڑیں گہری کرتی چلی جاتی ہیں اور اس طرح دین میں اور نظام میں ایک بگاڑ پیدا ہو رہا ہوتا ہے اس لئے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا، اب پھر کہہ رہا ہوں کہ دوسروں کی مثالیں دے کر بیچنے کی کوشش نہ کریں، خود بچیں اور اب اگر دوسرے احمدی کو یہ کرتا دیکھیں تو اس کی بھی اطلاع دیں کہ اس نے یہ کیا تھا۔اطلاع تو دی جاسکتی ہے لیکن یہ بہانہ نہیں کیا جا سکتا کہ فلاں نے کیا تھا اس لئے ہم نے بھی کرنا ہے تا کہ اصلاح کی کوشش ہو سکے، معاشرے کی اصلاح کی جا سکے۔ناچ، ڈانس (Dance) اور بیہودہ قسم کے گانے جو ہیں ان کے متعلق میں نے پہلے بھی واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر اس طرح کی حرکتیں ہوں گی تو بہر حال پکڑ ہو گی۔لیکن بعض برائیاں ایسی ہیں جو گو کہ برائیاں ہیں لیکن ان میں یہ شرک یا یہ چیزیں تو نہیں پائی جاتیں لیکن لغویات ضرور ہیں اور پھر یہ رسم و رواج جو ہیں یہ بوجھ بنتے چلے جاتے ہیں۔جو کرنے والے ہیں وہ خود بھی مشکلات میں گرفتار ہو رہے ہوتے ہیں اور بعض جو ان کے قریبی ہیں، دیکھنے والے ہیں، ان کو مشکل میں ڈال رہے ہوتے ہیں ان میں جہیز ہیں، شادی کے اخراجات ہیں، ویسے کے اخراجات ہیں، طریقے ہیں اور بعض پر