مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 117
ہیں :۔دُور کے مسافر ہیں ایک صدی کا ہمارا سفر نہیں ہے سینکڑوں سال تک اور خدا کرے ہزاروں سال تک ہم اسلام کی امانت کو حفاظت کے ساتھ نسلاً بعد نسل دوسروں تک منتقل کرتے چلے جائیں ان اہم مقاصد کے لئے آپ کو پوری طرح ہتھیار بند ہونا چاہئے آپ ان معاملوں میں کیوں بار بار شیطان کے حملوں کے لیے اپنے سینوں کو پیش کرتے ہیں؟ جن میں قرآن کریم نے آپکو کھول کھول کر بیان فرما دیا ہے کہ ان اصولوں سے ہٹو گے تو موت کے سوا تمہارا کوئی مقدر نہیں ہے۔“ (ضمیمہ ماہنامہ انصار اللہ دسمبر 1987ء) حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خلافت رابعہ کے آغاز کے فتنہ کے متعلق ذکر کرتے ہوئے فرماتے پھر خلافت رابعہ کا دور آیا پھر دشمن نے کوشش کی کسی طرح فتنہ و فساد پیدا کیا جائے لیکن جماعت ایک ہاتھ پر اکٹھی ہوگئی اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس خوف کی حالت کو امن میں بدل دیا۔انتخاب خلافت کے ان حالات کے بعد جو بڑی سختی کے چند دن یا ایک آدھ دن تھے دشمن نے جب وہ سکیم ناکام ہوتی دیکھی تو پھر دو سال بعد ہی خلاف رابعہ میں، 1984ء میں پھر ایک اور خوفناک سکیم بنائی کہ خلیفہ امسیح کو بالکل عضو معطل کی طرح کر کے رکھ دو، وہ کوئی کام نہ کر سکے اور جب وہ کوئی کام نہیں کر سکے گا تو جماعت میں بے چینی پیدا ہوگی اور جب جماعت میں بے چینی پیدا ہو گی تو ظاہر ہے وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوتی چلی جائے گی،اس کا شیرازہ بکھرتا چلا جائے گا۔“ از خطبہ جمعہ فرموده 21 مئی 2004ء الفضل انٹر نیشنل 4 تا 10 جون 2004ء) خلافت خامسہ کے دور میں اُٹھایا جانے والا فتنہ اور اس کا رڈ : خلافت ِ خامسہ کے دور میں فتنہ پرداز کھل کر تو کوئی فتنہ نہ پیدا کر سکے لیکن نہایت ہی چھپے ہوئے اور مخفی انداز میں وار کیا۔فتنہ پردازوں نے احباب جماعت کو ایک مضمون بھجوا کر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ خلافت احمد یہ مستقل نہیں چلے گی بلکہ ایک دور میں ملوکیت میں بدل جائے گی اور گویا وہ دور اب آچکا ہے جب خلافت نے ملوکیت میں بدلنا تھا حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نہایت احسن طریق سے جماعت کو اس فتنے سے بچایا اور آئندہ کے لیے بھی ایسے فتنوں کا سد باب کر دیا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔دو اب میں مختصراً ان صاحب کی طرف آتا ہوں جنہوں نے بڑی ہوشیاری سے مضمون پھیلا کر بعض لوگوں کے دلوں میں شہادت پیدا کر نے کی کوشش کی ہے۔اپنی طرف سے ایسے لوگوں کا آلہ کار بنانے کی کوشش کی ہے جو شاید اس سوچ میں پڑ جائیں لیکن انہیں پتہ نہیں کہ جماعت کی اکثریت خلافت سے سچی وفا اور محبت رکھنے والی ہے اور جن کو یہ مضمون بھجوائے گئے ہیں انہوں نے نظام کو یا مجھے اس سے آگاہ کر دیا، ہمیں بھجوادیے۔شیطان نے ایک چال چلی تھی لیکن وہ ناکام ہو گیا لیکن جماعت کو بتانا میرا فرض ہے کہ وہ آئندہ محتاط رہیں۔ان صاحب نے حضرت میاں بشیر احمد صاحب کی اس بات کو انڈر لائن (underline) کیا ہے کہ کسی نبی کے بعد خلافت متصلہ کا سلسلہ دائمی طور پر نہیں چلتا بلکہ صرف اس وقت تک چلتا ہے جب تک کہ خدا تعالیٰ نبوت کے کام کی تکمیل کے لیے ضروری خیال فرمائے اور اس کے بعد ملوکیت کا دور آجاتا ہے یعنی تسلسل قائم نہیں رہتا ، ایک کے بعد دوسرا خلیفہ نہیں آتا۔روحانی طور پر سلسلہ ختم ہو جائے گالیکن یہاں بھی واضح ہو کہ کیا 117