مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 118 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 118

جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا مشن تھا مکمل ہو گیا ہے؟ جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ حضرت میاں صاحب کا اپنا نظریہ تھا اور اس بارہ میں ایک دو اور جگہ اس مضمون میں جو میں نے الفاظ پڑھے ہیں اس سے ملتے جلتے الفاظ ہیں لیکن یہ صاحب حضرت میاں صاحب کے اسی مضمون میں یہ الفاظ بھی پڑھ لیں کہ نیچے خلفا کی علامات کیا ہیں۔آپ اس بارہ میں لکھتے ہیں کہ پہلی اور ظاہری علامت یہ ہے کہ مومنوں کی جماعت کسی شخص کو اتفاق رائے یا کثرت رائے سے خلیفہ منتخب کرے۔اب یہ صاحب بتائیں کہ کیا خلافت خامسہ کے انتخاب میں یہ نہیں ہوا؟ مجلس انتخاب میں تو بہت سے ایسے ممبران تھے جو مجھے جانتے بھی نہیں تھے لیکن الہی تقدیر کے ماتحت انہوں نے میرے حق میں رائے دی اور اکثر نے یہ کہا کہ ہمارے دل میں یہ خدائی تحریک پیدا ہوئی ہے اور اس بات کی وضاحت بھی حضرت میاں صاحب (حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ) نے مضمون میں کی ہوئی ہے۔بہر حال میں میاں صاحب کے حوالوں سے اس لیے بات کر رہا ہوں کہ ان کے مضمون میں ہی جواب موجود ہے اور یہ بھی کہ تم جلد بازی نہ کرو۔پھر آپ رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں: دوسری علامت یہ ہے جو باطنی علامتوں میں سے ہونے کی وجہ سے کسی قدر غور اور مطالعہ چاہتی ہے وہ ہے قرآن کریم کی آیت استخلاف یعنی وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمُ وَلَيُبَدِ لَنَّهُمْ مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا کہ اور ان کے لیے ان کے دین کو جو اس نے ان کے لیے پسند کیا ضرور تمكنت عطا کرے گا اور ان کے خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔آپ رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں کہ : ہر خلیفہ کی وفات کے بعد عموماً جماعت میں ایک زلزلہ وارد ہوتا ہے، جماعت کے لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ایسے وقت میں خدا کی سنت ہے کہ وہ اپنے مقرر کردہ خلیفہ کے ذریعہ انہیں اطمینان اور تمکنت عطا فرماتا ہے۔اب آپ میں سے ہر سے ہر کوئی گواہ ہے بلکہ دنیا کا ہراحمدی گواہ ہے، ہر ہے، ہر بچہ گواہ ہے کہ کیا حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کے بعد جو ایک خوف کی حالت تھی اسے اللہ تعالیٰ نے سکینت میں نہیں بدل دیا؟ اگر ان صاحب کے لیے یہ دلیل کافی نہیں تو اللہ ہی رحم کرے! اور تیسری علامت حضرت میاں صاحب نے اپنی ذوقی علامت بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی رنگ میں نبی پر ظاہر کر دیتا ہے کہ کون آئندہ ہونا ہے۔بہرحال اس کا تعلق تو نبی۔سے ہے۔ضروری نہیں کہ ہر جگہ نبی کی طرف سے اظہار بھی ہو۔تو ان صاحب سے میں حضرت میاں صاحب کے الفاظ میں یہی کہتا ہوں کہ اس زمانے کی قدر کو پہچانو اور اپنے ، آنے والوں کے لیے نیک نمونہ چھوڑو تا کہ بعد کی نسلیں تمہیں محبت اور فخر کے ساتھ یاد کریں اور تمہیں احمدیت کے معماروں میں یاد کریں نہ کہ خانہ خرابوں میں اب احمدیت کا علمبردار وہی ہے جو نیک اعمال کر نے والا اور خلافت سے چمٹا رہنے والا ہے جب تک ایسی مائیں پیدا ہوتی رہیں گی جن کی گود میں خلافت سے محبت کرنے والے بچے پروان چڑھیں گے اس وقت تک خلافت احمدیہ کو کوئی خطرہ نہیں۔“ (خطبہ جمعہ 27 مئی 2005ء الفضل انٹر نیشنل 10 تا 16 جون 2005ء) 118