مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 108
2003ء میں مجموعی طور پر افریقہ کے 8 ممالک میں 40 ہائر سیکنڈری سکولز ، 37 جونئر سیکنڈری سکولز ،238 پرائمری سکولز، 58 نرسری سکولز کام کر رہے ہیں اور کل تعداد 373 ہے۔گویا کہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے دور ہجرت میں 199 سکولز کا اضافہ ہوا۔مجلس نصرت جہاں کے تحت ہسپتال: 1985-86ء میں سات ممالک غانا، نائیجیریا، سیرالیون، گیمبیا، لائبیریا، آئیوری کوسٹ اور یوگنڈا میں چوٹیں ہسپتال کام کر رہے تھے۔ان ممالک میں مزید وسعت کے علاوہ درج ذیل ممالک میں بھی ہسپتالوں کا اضافہ ہوا: بورکینافاسو، ببینن، کانگو اور تنزانیہ۔یوں اس وقت افریقہ کے بارہ ممالک میں احمدیہ کلینکس اور ہسپتال کی تعداد بہتیں ہو چکی ہے۔اس کے علاوہ جماعت احمدیہ کے انتظامات کے تحت دنیا بھر میں سینکڑوں کلینکس اور ہومیو پیتھک ڈسپنسریاں بھی کام کر رہی ہیں۔اللہ کے فضل سے خلافت خامسہ میں مجلس نصرت جہاں کے تحت افریقہ کے بارہ ممالک میں سینتیں ہسپتال اور کلینکس کام کر رہے ہیں۔اور چار سو پینسٹھ ہائر سیکنڈری سکولز اور جونئر سکولز قائم ہو چکے ہیں۔( الفضل 5 اگست 2005ء وسیدنا طاہر سوونیئر مطبوعہ جماعت برطانیہ - صفحہ 22) خلافت کے خلاف اٹھنے والے فتنے اور ان کا انجام: استحکام خلافت کا ایک پہلو تو جماعتی ترقیات ہیں جن کا مختصر جائزہ ہم نے دیکھا۔جس طرح اللہ تعالیٰ خلافت کی برکت سے جماعت کو ترقیات سے نوازتا ہے اسی طرح وہ جماعت کے مخالفین کو ان کے مذموم مقاصد میں ناکام و نامراد اد کرتا ہے۔چنانچہ آئیے اب حالات و واقعات کی روشنی میں خلافت حقہ ثانیہ اسلامیہ کے مخالفین اور ان کے انجام کا جائزہ لیتے ہیں: خلافت اولی میں اُٹھنے والے فتنے اور ان کا انجام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد جب حضرت خلیفة امسیح الاول رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا گیا تو کچھ لوگوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی بیعت تو کر لی لیکن جب بھی موقع ملا یہ گروہ فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا۔یہ گروہ لاہوریوں یعنی غیر مبائعین کا گروہ کہلایا۔یہ لوگ بیعت کے بعد بھی لوگوں میں یہ پراپیگنڈا کرتے رہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل جانشین اور خلیفہ صدر انجمن ہی ہے۔انجمن میں چونکہ ان لوگوں کے خیالات رکھنے والوں کی تعداد کافی تھی اس لیے یہ چاہتے تھے کہ تمام اختیارات انجمن کو ہی حاصل ہو جائیں۔جب یہ خیالات حضرت خلیفۃ اصیح الاول رضی اللہ عنہ تک پہنچے تو حضور نے مختلف جماعتوں کے نمائندگان کو قادیان میں بلا بھیجا اور انہیں خلافت کے مقام اور منصب کے بارے میں اچھی طرح سمجھایا اور جو غلط فہمی مؤمنین کے دلوں میں پید ا کرنے کی کوشش کی گئی تھی اُسے دور کر دیا، نیچے اکثر احباب کے سینے صاف ہو گئے اور حضرت خلیفة امسیح الاول رضی اللہ عنہ نے مذموم بعض لوگوں سے دوبارہ بیعت لی۔دوبارہ بیعت کے بعد کچھ عرصہ تک تو یہ فتنہ دبا رہا لیکن جب حضور رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو ایک دفعہ پھر اختلافی مسائل پر گفتگو چل نکلی۔اسی دوران کچھ فتنہ پردازوں نے لاہور سے اشتہار نکالے جن کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کو یہ سمجھایا جائے کہ خلیفہ المسیح الاول کی وفات کے بعد کسی خلیفہ کی بیعت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انجمن ہی کافی ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کے وصال پر ملال پر مولوی محمد علی صاحب نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جلدی نہیں کرنی چاہئیے فی الحال 108