مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 109 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 109

چند ماہ کے لئے خلافت کا انتخاب ملتوی کر دیا جائے اور جو اختلاف راہ پا چکا ہے اس پر اچھی طرح بحث ہو جس کے بعد اس کا حل نکال کر متفق ہو کر کام کرنا چاہئے۔اس پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس معاملے پر تو جماعت خلافت اولی کے انتخاب کے وقت سے ہی فیصلہ کر چکی ہے کہ جماعت میں خلفا کا سلسلہ چلے گا۔اب صرف یہ معاملہ مشورہ طلب ہے کہ خلیفہ کون ہو؟ اور جو بھی خلیفہ ہو ہم بیعت کرنے کو تیار ہیں۔چنانچہ انتخاب کے وقت اکثریت نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا اور بیعت کر لی لیکن مولوی محمد علی صاحب اور ان کے کچھ رُفقا نے بیعت نہ کی اور اس انتخاب کو ایک سازش قرار دے دیا۔خلافت اولی میں فتنہ بازوں کے انجام کے بارہ میں حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ 21 مئی 2004ء میں فرمایا :۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں خوشخبریاں بھی دے دی تھیں کہ آپ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے انشاء اللہ خلافت دائی رہے گی اور دشمن دو خوشیاں کبھی نہیں دیکھ سکے گا کہ ایک تو وفات کی خبر اس کو اور اس پر خوش ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر ایسے بھی تھے جنہوں نے خوشیاں منائیں اور پھر یہ کہ وہ جماعت کے ٹوٹنے کی خوشی وہ دیکھ سکیں گے، یہ کبھی نہیں ہوگا۔دشمن نے بڑا شور مچایا، بڑا خوش تھا لیکن اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ تھا کہ : مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِم اَمَنَّا کا ہمیں نظارہ بھی دکھایا اور بعض لوگوں کا خیال تھا کہ حضرت خلیفۃ امسیح الاول اب کافی عمر رسیدہ ہو چکے ہیں، طبیعت کمزور ہو چکی ہے اور شاید اس طرح خلافت کا کنٹرول نہ رہ سکے اور شاید وہ خلافت کا بوجھ نہ اٹھا سکیں اور انجمن کے بعض عمائدین کا خیال تھا کہ اب ہم اپنی من مانی کرسکیں گے کیونکہ عمر کی وجہ سے بہت سارے معاملات ایسے ہیں جو اگر ہم خلیفہ اسیح الاول کی خدمت میں نہ بھی پیش کریں تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا اور ان کو پتہ نہیں چلے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے دشمن کی یہ تمام اندرونی اور بیرونی جو بھی تدبیریں تھیں ان کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور اندرونی فتنے کو بھی دبا دیا اور دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ہر موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الاول نے اس فتنہ کو دبایا اور کتنے زور اور شدت سے اس کو دبایا اور کس طرح دشمن کا منہ بند کیا۔“ (خطبه جمعه فرموده 21 مئی 2004ء از خطبات مسرور جلد 2 صفحه 341) حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت خلیفۃ اسبح الاول رضی اللہ عنہ کے ایک ارشاد کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چونکہ خلافت کا انتخاب عقل انسانی کا کام نہیں، عقل نہیں تجویز کر سکتی کہ کس کے قومی قوی ہیں کس میں قوت انسانیہ کا مل طور پر رکھی گئی ہے اس لیے جناب الہی نے خود فیصلہ کر دیا ہے کہ: وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ خلیفہ بنانا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔(حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ 255) حضرت خلیفۃ اسیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: " مجھے نہ کسی انسان نے نہ کسی انجمن نے خلیفہ بنایا اور نہ میں کسی انجمن کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خلیفہ بنائے۔پس مجھ کو نہ کسی انجمن نے بنایا نہ میں اس کے بنانے کی قدر کرتا ہوں اور اس کے چھوڑ دینے پر تھوکتا بھی نہیں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ وہ اس خلافت کی ردا کو مجھ سے چھین لئے‘ (بدر قادیان 4 جولائی 1912ء) پھر حضرت خلیفۃ اصیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام صرف نماز پڑھا دینا اور یا پھر بیعت لے لینا ہے! یہ کام تو ایک ملاں بھی کر سکتا 109