مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 88
صالحہ کے ساتھ بظاہر ان نتائج کو کوئی نسبت نہ رہے اور یوں محسوس ہونے لگے کہ تمکنت خالصہ اللہ ہی کی طرف سے آئی تھی ہمارے اعمال صالح کا اس میں کوئی بھی دخل نہیں ہے۔یہ مکمل نقشہ بن جاتا ہے۔تم اعمال کرو گے لیکن اعمال صالحہ کو براہ راست تمکنت کا پھل نہیں لگے گا بلکہ اعمال صالحہ کو قبول فرما کر اللہ تعالیٰ تم پر اتنے فضل نازل فرمائے گا کہ پھر تمہیں جو تمکنت عطا ہو گی وہ خدا کی طرف سے آئے گی اور تمکنت جب خدا بھیجے گا تو دنیا میں حسد کی ایک آگ لگ جائے گی۔تمہاری ترقیات لوگوں کو ہضم نہیں ہوں گی۔وہ بے قرار اور بے چین ہو جائیں گے۔وہ تم سے خطرہ محسوس کرنے لگیں گے اور اس کے نتیجہ میں وہ تمہاری مخالفت کریں گے اور تمہارے لئے خطرات پیدا کریں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان خطرات سے نکالنا یہ ہمارا ذمہ ہے ہم اتنا وعدہ کرتے ہیں جتنا شدت اور روز مرہ کے لحاظ سے ممکن ہے۔تم ہمارے وعدہ پر یقین رکھو۔یہ مختلف قسم کے خوف تمہاری تمکنت کی حالت کو کسی قیمت پر بدل نہیں سکیں گے۔خدا کیطرف سے لازماً ہر خوف کی حالت کو ناکام بنا دیا جائے گا اور اسی خوف سے ایک نیا امن تمہیں نصیب ہو گا یعنی تمکنت کا مضمون لفظ امن کے ساتھ دوبارہ داخل کر دیا ہے۔یعنی خوف کے نتیجہ میں بھی ترقی ہی نصیب ہو گی مخالفانہ کوششوں کے نتیجہ میں بھی تمکنت ہی نصیب ہو گی کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے تمکنت کا عربی لغت میں ایک معنی امن کی حالت کا بھی ہے۔پس اللہ کی طرف سے ایک امن کی حالت تمہیں نصیب ہو گی جسے لوگ بدلنے کی کوشش کریں اور اگر تم نہیں ڈرو گے اور خدا پر توکل رکھو گے اور تمہاری آگے بڑھنے کی رفتار میں خوف کی وجہ سے کمی نہیں آئے گی ( یہ ساری باتیں اس کے مفہوم میں شامل ہیں ) تو پھر اللہ تعالیٰ تم سے وعدہ کرتا ہے کہ اسی خوف میں سے بھی خدا تعالیٰ امن کے حالات پیدا کر دے گا اور تمہارے لئے نئی تمکنت کے حالات پیدا کر گے گا۔مگر یادرکھو اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شِيْئًا تم نے میرے سوا ہر گز کسی کی عبادت نہیں کرنی۔کسی بندہ پر انحصار نہیں کرنا۔کسی اور کو اپنا رب نہیں بنانا اور خالصہ میرے لئے ہو رہنا ہے۔لَا يُشْرِكُونَ بِى شِيْئًا اور غیر کے خوف کو دل سے کلیہ نکال ڈالنا ہے ورنہ تم خدا کے نزدیک مشرک شمار کئے جاؤ گے۔جب یہ سب کچھ ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس تقدیر الہی کو دیکھنے کے باوجود یعنی باوجود اس کے کہ ہزارہا ایسے واقعات رونما ہو چکے ہوں گے اور جو انہی سلسلہ کی تاریخ سے وابستہ ہوں گے وہ سلسلہ جو من حیث الجماعۃ خلیفہ ہے اور جس کا ارتکاز ہو گیا ہے ایک خلیفہ کی شکل میں اور اس کی بیعت کر کے وہ مرتکز ہو گئے ہیں طاقت کے لحاظ سے ایک مقام پر ان لوگوں کے اوپر بارہا دنیا دیکھ چکی ہے کہ ایسے حالات آئے لیکن ہر دفعہ خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کو پورا فرمایا۔ہر دفعہ تمکنت کو بڑھایا۔ہر دفعہ خوف کو بدلا اور خوف میں سے تمکنت کے سامان پیدا فرمائے۔یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد اگر پھر بھی تم نے انکار کیا تو یہ تو پھر بڑی ناشکری کا مترادف ہو گا۔مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ کے دو معنے ہیں ایک یہ کہ الہی فضلوں کے بعد بھی تم میں کسی نے اگر انکار کیا اور محروم رہ گیا۔دوسرے معنے ہیں اگر تم نے ان فضلوں کی ناشکری کی اور خدا تعالیٰ کے ان فضلوں کے نتیجہ میں پہلے سے تسبیح و تحمید میں مصروف نہ ہوئے اور اس کی حمد کے گیت نہ گائے تو پھر یہ خدا کے نزدیک فسق ہے اس لئے جماعت پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ کسی شکل میں بھی ناشکری نہ کریں خدا تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھیں تو اس کے شکر اور حمد کے گیت گاتے ہوئے اس کثرت کے ساتھ اس کے حضور سربسجود ہوں کہ اس کے زیادہ 88