مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 87 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 87

87 جس کے نتیجہ میں تمہیں تمکنت نصیب ہو یعنی یہاں حوالہ ہو جائے گا شروع کی طرف جہاں یہ شرط لگائی گئی تھی۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ۔۔۔لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمُ دِيْنِهُمُ الَّذِى یہ ارتَضَى لَهُمْ یہ اس آیت کی مکمل شکل بن جائے گی کہ اللہ تعالیٰ ان مومنوں سے جو عمل صالح کے ذریعہ مسلسل ترقی کیلئے کوشاں ہیں اور ہر آن ان کا قدم نیک اعمال کے نتیجہ میں آگے کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ان کے دین کو ضرور تمکنت نصیب فرمائے گا اور ہر تمکنت کے بعد ایک ایسا مقام ان کو عطا ہو گا کہ دنیا ان سے خوف محسوس کرے گی اور ان سے خوف محسوس کرنے کے نتیجہ میں جو رد عمل پیدا ہوتا ہے اس سے ان کے لئے ایک خوف پیدا ہو جائے گا ان کیلئے بظاہر خطر ناک حالات پیدا ہوں گے۔خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ تم تمکنت کے حصول کے لئے نیک اعمال کے ذریعہ کوشش کرتے چلے جاؤ ہم تمہیں تمکنت دیتے چلے جائیں گے اور یہ یقین دلاتے ہیں کہ اس وجہ سے جو خوف تمہارے لئے پیدا ہوں گے ان کے ہم ذمہ دار ہیں۔ہر خوف جو تمہاری ترقی کے نتیجہ میں تمہارے لئے پیدا ہو گا خدا اس کا ضامن ہے جس طرح کہتے ہیں تو مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن ہے۔اسی قسم کا مفہوم یہ آیت بیان کر رہی ہے کہ تم آگے بڑھتے چلے جاؤ۔تمہارے لئے کوئی آخری منزل نہیں تمہارا ہر قدم جو آگے بڑھے گا اللہ تعالیٰ یہ وعدہ فرماتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں تمہیں ایک تمکنت نصیب فرمائے گا۔تم ہر تمکنت کی جو منزل حاصل کرو گے اس کے نتیجہ میں مخالفت کی ایک آگ لگ جائے گی اور تم گر جتے ہوئے بے انتہاء خطرناک بادل دیکھو گے۔جو تمہیں ڈرائیں گے اور دھمکا ئیں گے کہ اچھا تم ترقی کرنے کی جرات کر رہے ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ان کی بالکل پروا نہ کرو۔ان کا جواب دینا ہمارا کام ہے۔وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا یہ وعدہ بڑی شدت کے ساتھ کیا گیا ہے۔وعدے کی شدت کے جو ذرائع عرب اختیار کرتے ہیں یا عربی زبان میں اختیار کئے جاتے ہیں وہ سارے یہاں اکٹھے کر دیئے گئے ہیں۔لام جو شروع میں آیا ہے یہ شدت پیدا کرنے کے لئے ہے۔نون خفیفہ بھی شدت کے لئے آتا ہے اور نون خفیفہ سے زاید کر کے اسے نون ثقیلہ میں تبدیل کر دیا جائے تو شدت میں انتہا پیدا ہو جاتی ہے۔پس خدا تعالیٰ اس شدت کے ساتھ آپ کو مطمئن فرما رہا ہے کہ ہر تمکنت کے نتیجہ میں جس کا تمہارے اعمال صالح سے تعلق ہو گا خدا تعالیٰ ان کو قبول فرما کر تمہیں تمكنت نصیب فرمائے گا جو بھی خوف پیدا ہوں گے ان سے تم نے ہر گز نہیں ڈرنا اور نہ خوف کھانا ہے۔اگر ایسا کرو گے تو تم مشرک بن جاؤ گے۔يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا۔تمہیں ایسی جماعت دیکھنا چاہتے ہیں کہ جس میں شرک کا ادنی پہلو بھی نہ ہو۔تم اعمال صالحہ کے ذریعہ ترقی ترقی کرتے چلے جاؤ۔اللہ تعالیٰ ان اعمال صالح کو قبول فرمائے اور اتنے زیادہ نتیجے پیدا فرمائے کہ اعمال