مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 89
89 دونوں نتیجہ میں آپ کے لئے پھر تمکنت کا ایک نیا دور شروع ہو جائے۔یہ وہ لا متناہی ترقی کا سلسلہ ہے جس کو قرآنی اصطلاح میں خلافت کہا جاتا ہے۔اس سے زیادہ حسین اور کامل نظام سوچا ہی نہیں جا سکتا یہ ایک جاری سلسلہ ہے جس میں ایک کے بعد دوسرا۔دوسرے کے بعد تیسرا نمائندہ آپ کو عطا ہوتا ہے اور اس کی ذات کے ارد گرد اکٹھے رہنے کے نتیجہ میں آپ خلیفہ ہیں۔اگر اس کی ذات سے الگ ہوتے ہیں تو آپ خلیفہ نہیں رہتے۔یہ ایک اور پہلو ہے جس کی طرف آپ کو متوجہ رہنا چاہیے کہ من حيث الجماعت خلافت اس وقت تک ہے جب تک یہ خلافت مرتکز ہے ایک خلیفہ کے وجود میں اور یہ وجود وہ ہے جس کو خدا تعالیٰ اپنے تصرف کے تابع آپ کا نمائندہ بنا دیتا ہے یا اپنا نمائندہ بنا دیتا ہے صورتیں ہیں۔لیکن جو شخص اس سے الگ ہو جاتا ہے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ جو اس سلسلہ خلافت سے پھر الگ ہوتا ہے وہ گویا اس کا انکار کرتا ہے جس نے اس کو خلیفہ بنایا ہوتا ہے فَأُولئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ۔مختلف علما کی طرف سے فسق کے مختلف معنے کئے گئے ہیں۔فسق کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ کافر ہو گیا یعنی خدا کے نزدیک اس نے انکار کر دیا اس کا دین سے کوئی تعلق نہ رہا اس کا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں رہا۔تو مراد یہ ہے کہ اگر تم فستق کرو گے۔اگر تم خلافت کا کفر کرو گے تو وہ فسق پر منتج ہو جائے گا اور تمہارا اسلام سے کوئی تعلق باقی نہیں رہے گا۔فسق کا ایک اور معنی یہ بھی ہے کہ تمہارا امن اٹھ جائے گا کیونکہ جب عرب کسی کھجور کے متعلق محاورہ کہتے ہیں کہ فلاں کھجور فاسق ہو گئی تو مراد یہ ہوتی ہے کہ اس کا گودا اپنے خول کو توڑ کر اس کا کچھ حصہ کیڑوں اور دوسری چیزوں کا شکار ہونے کے لئے باہر آ گیا۔وہ حفاظت جو خول کے اندر اس کو ملی ہوئی تھی اس حفاظت سے اس کا کچھ حصہ باہر آ گیا۔پس یہاں فسق کے معنے یہ ہوں گے کہ اگر تم نے خلافت کی ناشکری کی تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ نظام خلافت کے اندر جو امن تمہیں نصیب ہے وہ اٹھ جائے گا اور تم جنہ کے پیچھے نہیں لڑ رہے ہو گے۔بلکہ تمہارے بعض اعضا اور بعض حصے اس حفاظت کی ڈھال سے آگے نکل کر دشمن کی زد میں آجائیں گے۔پس یہ مضمون بھی چونکہ consistent چل رہا ہے اس لئے اس کا مطلب یہی ہے کہ تم اپنا امن کھو دو گے۔تم خلافت کی جس۔حد تک بھی ناشکری کرو گے۔جس حد تک اس کے دائرہ سے باہر نکلو گے اس حد تک تم دنیا کے عذابوں کے شکار ہونے کے لئے اپنے آپ کو پیش کر رہے ہو گے۔اس لئے خلافت کے ساتھ چمٹے رہنا ہے کسی طرح اور کسی حالت میں بھی اس سے باہر نہیں نکلنا۔یہ ہے ایک پہلو اور ایک مضمون آیت استخلاف کا جس کی طرف آج میں نے احباب کو توجہ دلانا ضروری سمجھا۔- اس کے کچھ نتائج نکلتے ہیں۔کچھ ذمہ داریاں ہم پر عاید ہوتی ہیں۔دین کے لئے تمکنت کی جو کوشش ہے جس کے نتیجہ میں دشمن کو تکلیف پہنچی ہے وہ کوشش آپ نے کرنی ہے اور وہ تکلیف اب لوگوں کو ہو رہی ہے مثلاً دعوت الی اللہ کا پروگرام ہے اس کے نتیجہ میں اس وقت دنیا میں بہت شدید رد عمل ہوا ہے۔بعض کمزور لوگ شاید خوف محسوس کر رہے ہوں اور وہ سمجھیں کہ ہم دعوت الی اللہ کے پروگرام میں بہت ہی زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اس کے نتیجہ میں کہیں یہ نہ ہو جائے اور کہیں وہ نہ ہو جائے۔دشمن بیزار ہو رہا ہے کی توجہ ہماری طرف ہو رہی ہے۔وہ نئے نئے منصوبے بنا رہا ہے۔لیکن میں آپ کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس آیت کے مضمون میں یہ بات اچھی طرح کھول دی گئی ہے کہ اگر اس کوشش کے نتیجہ میں جو اعمال صالحہ کے ذریعہ کی جاتی ہے تم آگے بڑھنے لگو۔نئے نئے لوگ تمہارے اندر داخل ہونے شروع ہو جائیں۔نئی نئی قومیں تمہارے اندر داخل ہو نے لگیں یعنی تمہیں غلبہ نصیب ہونا شروع ہو جائے۔کیونکہ اس آیت میں ایک معنی