مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 585 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 585

ہے جو پہلی ”جاننا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نہایت کریم و رحیم ہے۔جو شخص اس کی طرف صدق اور صفا سے رجوع کرتا ہے وہ اس سے بڑھ کر اپنا صدق و صفا اس سے ظاہر کرتا ہے، اس کی طرف صدق دل سے قدم اٹھانے والا ہر گز ضائع نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ میں بڑے بڑے محبت اور وفاداری اور فیض اور احسان اور کرشمہ خدا ئی دکھلانے کے اخلاق ہیں مگر وہی ان کو پورے طور پر مشاہدہ کرتا ہے جو پورے طور پر اس کی محبت میں محو ہو جاتا ہے۔اگر چہ وہ بڑا کریم و رحیم ہے مگر غنی اور بے نیاز ہے اسی لئے جو شخص اس کی راہ میں مرتا ہے وہی اس سے زندگی پاتا ہے اور جو اس کیلئے سب کچھ کھوتا ہے اسی کو آسمانی انعام ملتا ہے۔خدا تعالیٰ سے کامل تعلق پیدا کرنے والے اس شخص سے مشابہت رکھتے ہیں جو اول دور سے آگ کی روشنی دیکھے اور پھر اس سے نزدیک ہو جائے یہاں تک کہ اُس آگ میں اپنے تئیں داخل کر دے اور تمام جسم جل جائے اور صرف آگ ہی باقی رہ جائے۔اسی طرح کامل تعلق والا دن بہ دن خدا تعالیٰ کے نزدیک ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ محبت الہی کی آگ میں تمام وجود اس کا پڑ جاتا ہے اور شعلہ نور سے قالب نفسانی جل کر خاک ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ آگ لے لیتی ہے یہ انتہا اس مبارک محبت کا ہے جو خدا سے ہوتی ہے۔یہ امر کہ خدا تعالیٰ سے کسی کا کامل تعلق اس کی بڑی علامت یہ ہے کہ صفات الہیہ اس میں پیدا ہو جاتی ہیں اور بشریت کے رذائل شعلہ نور سے جل کر ایک نئی ہستی پیدا ہوتی ہے اور ایک نئی زندگی نمودار ہوتی زندگی سے بالکل مغائر ہوتی ہے اور جیسا کہ لوہا جب آگ میں ڈالا جائے اور آگ اس کے تمام رگ و ریشہ میں پورا غلبہ کر لے تو لوہا بالکل آگ کی شکل پیدا کر لیتا ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ آگ ہے گو خواص آگ کے ظاہر کرتا ہے اسی طرح جس کو شعلۂ محبت الہی سر سے پیر تک اپنے اندر لیتا ہے وہ بھی مظہر تجلیات الہیہ ہو جاتا ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدا ہے بلکہ ایک بندہ ہے جس کو اس آگ نے اپنے اندر لے لیا ہے اور اس آگ کے غلبہ کے بعد ہزاروں علامتیں کامل محبت کی پیدا ہو جاتی ہیں کوئی ایک علامت نہیں ہے تا وہ ایک زیرک اور طالب حق پر مشتبہ ہو سکے بلکہ وہ تعلق صد با علامتوں کے ساتھ شناخت کیا جاتا ہے (ایک بڑی علامت کامل تعلق کی یہ ہوتی ہے کہ جس طرح خدا ہر ایک چیز پر غالب ہے اسی طرح وہ ہر ایک دشمن اور مقابلہ کرنے والے پر غالب رہتا ہے: كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِى مِنْهُ - من جملہ اس علامت کے یہ بھی ہے کہ خدائے کریم اپنا فصیح اور لذیذ کلام وقتاً فوقتاً اُس کی زبان پر جاری کرتا رہتا ہے جو الہی شوکت اور برکت اور غیب گوئی کی کامل طاقت اپنے اندر رکھتا ہے اور ایک نور اُس کے ساتھ ہوتا ہے جو بتلاتا ہے کہ یہ یقینی ا یہ یقینی امر ہے ظنی نہیں ہے۔اور ایک ربانی چمک اُس کے اندر ہوتی ہے اور کدورتوں سے پاک ہوتا ہے اور بسا اوقات اور اکثر اور اغلب طور پر وہ کلام کسی زبردست پیشگوئی پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کی پیشگوئیوں کا حلقہ نہایت وسیع اور عالمگیر ہوتا ہے اور وہ پیشگوئیاں کیا باعتبار کمیت اور کیا باعتبار کیفیت بے نظیر ہوتی ہیں کوئی اُن کی نظیر پیش نہیں کر سکتا اور ہیبت الہی ان میں بھری ہوئی ہوتی ہے اور قدرت تامہ کی وجہ سے خدا کا چہرہ ان میں نظر آتا ہے اور اُس کی پیشگوئیاں نجومیوں کی طرح نہیں ہوتیں بلکہ اُن میں محبوبیت اور قبولیت کے آثار ہوتے ہیں اور ربانی تائید اور نصرت سے بھری ہوئی ہوتی ہیں اور بعض پیشگوئیاں اس کے اپنے نفس کے متعلق ہوتی ہیں اور بعض اپنی اولاد کے متعلق اور بعض اس کے دوستوں کے متعلق اور بعض اس کے دشمنوں کے متعلق اور بعض عام طور پر تمام دنیا کیلئے اور بعض اس کی بیویوں اور خوشیوں کے متعلق ہوتی ہیں اور وہ امور اُس پر ظاہر ہوتے ہیں جو دوسروں پر ظاہر ر نہیں ہوتے اور وہ غیب کے دروازے اُس کی پیشگوئیوں پر کھولے جاتے ہیں جو دوسروں پر نہیں کھولے جاتے۔خدا کا کلام اس پر اسی طرح نازل ہوتا ہے جیسا کہ خدا کے پاک نبیوں اور رسولوں پر نازل ہوتا ہے اور وہ ظن 585