مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 586
سے پاک اور یقینی ہوتا ہے یہ شرف تو اُس کی زبان کو دیا جاتا ہے کہ کیا باعتبار کمیت اور کیا باعتبار کیفیت ایسا بے مثل کلام اس کی زبان پر جاری کیا جاتا ہے کہ دنیا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور اُس کی آنکھ کو کشفی قوت عطا کی جاتی ہے جس سے وہ مخفی در مخفی خبروں کو دیکھ لیتا ہے اور بسا اوقات لکھی ہوئی تحریریں اس کی نظر کے سامنے پیش کی جاتی ہیں اور مردوں سے زندوں کی طرح ملاقات کر لیتا ہے اور بسا اوقات ہزاروں کوس کی چیزیں اُس کی نظر کے سامنے ایسی آجاتی ہیں گویا وہ پیروں کے نیچے پڑی ہیں۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں: (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 16 تا 18) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت میں دلائل دیتے ہوئے اپنی تصنیف دعوۃ الامیر میں تحریر فرماتے ہیں: دسویں دلیل آپ علیہ السلام کی صداقت کی کہ وہ بھی درحقیقت سینکڑوں بلکہ ہزاروں دلائل مشتمل ہے یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نہایت کثرت سے اپنے غیب پر مطلع کیا تھا۔پس معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام خد اتعالیٰ کے فرستادہ تھے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولِ (سورۃ (جن) یعنی وہ غیب پر کثرت سے اطلاع دیتا مگر اپنے رسولوں کو۔(اظْهَرَ عَلَيْهِ کے معنی ہیں اس کو اس پر غلبہ دیا ) پس جس شخص کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع ملے اور اس پر وحی مصفیٰ پانی کی طرح ہو جو ہر قسم کی کدورت سے پاک ہو اور روشن نشان اُس کو دیئے جاویں اور عظیم الشان امور سے قبل از وقت اسے آگاہ کیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کا امور ہے اور اس کا انکار کرنا گویا قرآن کریم کا انکار ہے جس نے یہ قاعدہ بیان فرمایا ہے اور سب نبیوں کا انکار کرنا ہے جنہوں نے اپنی صداقت کے ثبوت میں ہمیشہ اس امر کو پیش کیا ہے۔چنانچہ بائبل میں بھی آتا ہے کہ جھوٹے نبی کی علامت ہے کہ جو بات وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہے وہ پوری نہ ہو۔اس معیار کے ماتحت جب ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کو دیکھتے ہیں تو آپ علیہ السلام کی سچائی ایسے دن کی طرح نظر آتی ہے جس کا سورج نصف النہار پر ہو۔آپ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے اس کثرت اور اس تواتر کے ساتھ غیب کی خبریں ظاہر کیں کہ رسول کریم کے سوا اور کسی نبی کی پیشگوئیوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی بلکہ سچ یہ ہے کہ ان کی تعداد اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ اگر ان کو تقسیم کیا جائے تو کئی نبیوں کی نبوت ان سے ثابت ہو جائے۔“ پیشگوئی مصلح موعود کا پس منظر: (دعوة الامير انوار العلوم جلد 7 صفحہ 516 تا517) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف براہین احمدیہ کی اشاعت کے بعد جبکہ تمام مذاہب آپ علیہ السلام کے مخالف ہو گئے اور خود مسلمانوں میں بھی ایک طبقہ ایسا تھا جس نے آپ علیہ السلام کے خلاف لکھنا شروع کر دیا تو آپ علیہ السلام کے دل میں سخت درد پیدا ہوا اور آپ علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے یہ دعائیں مانگنی شروع کیں کہ تو مجھے اپنی تائید سے ایسا موقع بہم پہنچا کہ میں ان تمام وساوس کو جو اسلام کے خلاف پھیلائے جاتے ہیں اور ان تمام حملوں کو جو اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ 586