مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 506
اور اسے نُورٌ عَلى نُورٍ بنا دیا ہو تو اسے مشورہ کی کیا ضرورت تھی۔چنانچہ تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ آنحضرت ملالہ نے ہمیشہ جو فیصلہ دیا وہی درست ثابت ہوا اور جہاں بھی مشورہ قبول نہیں کیا وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے فیصلے درست ثابت ہوئے جہاں مشورہ قبول کیا لیکن یہ فرما کر کہ میری ذاتی رائے یہ نہیں تھی لیکن تم لوگوں کی وجہ سے میں مانتا ہوں وہ رائے غلط نکلی اور آنحضر صلی اللہ کی رائے درست ثابت ہوئی۔پس اس سے میں یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ بظاہر آنحضرت متعلقہ کو مخاطب کیا گیا ہے لیکن اس سے بعد میں آنے والوں کو پابند کیا گیا ہے۔یہ آیت یہ مضمون پیش کرے گی کہ اے بنی نوع انسان! دنیا میں وہ ایک شخص جو مشورہ لینے سے مستغنی قرار دیا جا سکتا تھا میں اسے بھی پابند کر رہا ہوں اس لئے بعد میں آنے والے کم تر انسان یہ وہم ہی دماغ سے نکال دیں کہ وہ بغیر مشورہ کے میرے منشا کے مطابق فیصلہ کر سکیں گے۔لیکن ساتھ ایک ضمانت بھی دے دی۔فرمایا: فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى الله - کہ فیصلہ کی ذمہ داری اس نمائندہ پر ہو گی جو رسالت کا نمائندہ ہے اور مشورہ صرف اتنی حیثیت رکھے گا کہ فیصلہ کرنے والے تک ایک رائے پہنچ جائے۔اس کے بعد چونکہ اس کے حکم کی اطاعت ہوگی اور پوری دیانتداری سے مشورہ لیا ہو گا تو پھر قرآن کریم اسے کہیں بھی مجلس شوریٰ کا فیصلہ قرار نہیں دیتا بلکہ فرماتا ہے۔فَإِذَا عَزَمْتَ “ پھر فیصلہ تو ایک وجود نے کرنا ہے اور ہم تجھے یقین دلاتے ہیں کہ اس فیصلہ میں ہم تیرے ساتھ ہوں گے فَتَوَكَّلْ عَلَى الله پھر اپنے اللہ پر بھروسہ رکھو 66 اور جو فیصلہ ہو گا خدا تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے گا اور تیرے ساتھ ہوگا یہ ہے اسلامی مجلس شوری۔پس یہ ساری بحثیں کہ عورت کا حق ہے یا نہیں یہ ساری باتیں لغو ہیں نہ مرد کا حق ہے نہ عورت کا حق ہے بلکہ خلیفہ وقت کا فرض ہے کہ وہ مشورہ طلب کرے۔کن حالات میں اور کس طرح طرح طلب کرے؟ سنت نبوی سے یہ ثابت ہے کہ مختلف حالات میں مختلف طریق پر مشورے طلب کئے جاتے رہے۔ایک جگہ یہ اعتراض کیا گیا کہ عورتوں اور مردوں سے اکٹھا مشورہ نہیں لیا گیا۔ایسی مجلس شوری نہ وہاں قائم تھی اور نہ کوئی ایسا موقع پیش آیا بلکہ ایسے مواقع پیش آتے رہے کہ مرد اور عورتوں کے معاملات الگ الگ ہوتے رہے اور ان پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مشورہ طلب فرماتے رہے لیکن صلح حدیبیہ کے مقام پر جب مردوں نے ایک معاملہ میں ایسے حالات میں کہ ان کے قبضہ قدرت میں بات نہیں رہی تھی ایسا طریق اختیار کیا کہ آنحضرت مطلقہ کے دل کو اس سے سخت صدمہ پہنچا تو وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت ہی سے مشورہ کیا یعنی حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اور عورت ہی کا مشورہ سچا ثابت ہوا۔اس لئے عورت کے مشورہ کو نظر انداز کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس جہاں تک اکٹھے مشورہ کا سوال ہے وہاں صرف یہ بحث اٹھتی تھی کہ ان مشوروں میں مرد کو عورت کی آواز سننی چاہئے یا نہیں تو وہ تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ آنحضرت مطلقہ کی مجالس میں عورتیں حاضر ہوئیں انہوں مسائل بلکہ نجی مسائل پیش کئے اور ان کے راوی مرد موجود ہیں وہ گواہ کے طور پر تو نہیں بلائے گئے تھے بلکہ وہ اس مجلس میں خود موجود ہوتے تھے۔عورتیں حاضر ہو کر اپنا مافی الضمیر بیان کیا کرتی تھیں پھر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کا عام پبلک سے جو خطاب ہے وہ بھی تاریخ کا ایک حصہ ہے اس لئے ہے اس لئے یہ سارے تو ہمات ہیں۔پس اصل بات یہی ہے کہ خلیفہ وقت پابند ہے کہ وہ مشورہ لے اور حسب حالات جیسا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے محاکمہ فرمایا تھا۔خلاصہ کلام یہ بنتا ہے کہ یہ عقلی مسئلہ ہے حالات کے مطابق عورت کا مشورہ 506