مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 505
505 اس محاکمہ سے یہی معلوم ہوتی تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ نہ صرف جائز سمجھتے تھے بلکہ یہ محسوس فرمارہے تھے کہ ایسا وقت آنے والا ہے کہ جب عورت کو اس قسم کے معاملات میں مردوں کے ساتھ شامل کرنا پڑے گا۔چنانچہ اس کے ثبوت کے طور پر سب سے پہلی اجازت جو آپ رضی اللہ عنہ نے مستورات کو دی وہ اسی مجلس میں عمل میں لائی گئی تھی۔آپ رضی اللہ عنہ نے مستقل دستور نہیں بنایا بلکہ فرمایا کہ فی الحال پہلے دستور کو جاری رہنے دیا جائے لیکن کسی کو یہ وہم ہو کہ شاید خلاف شرع ہے اس وہم کو دور کرنے کے لئے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں لجنہ اماء اللہ کی نمائندگان کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ بولیں لیکن کوئی نمائندہ نہیں بولا۔پھر آپ رضی اللہ عنہ نے شاید یہ محسوس کیا کہ ہو سکتا ہے یہ خیال ہو کہ اپنے گھر کی مستورات کی آواز سننا شائد انہیں ناگوار گزرے اور مراد یہ ہے کہ کوئی بولے۔تو اس وہم کو دور کیا اور فرمایا کہ میں اپنے گھر کی مستورات کو بھی کہتا ہوں کہ وہ بولنا چاہیں تو وہ بھی بولیں۔پھر بھی خاموشی رہی پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دیکھو! ہمیشہ کے لئے تم ایک تاریخ بنا رہی ہو۔مرد تمہارے حق میں بول رہے ہوں اور تم اپنے حق کو استعمال کرنے میں شرماؤ تو اس طرح تم ثابت کر دو گی کہ ہم اس بات کی اہل نہیں ہیں اس لئے میں تمہیں متنبہ ک تمہیں متنبہ کرتا ہوں اور چند منٹ دیتا ہوں اس کے اندر اندر بولنا ہے تو بول لو۔چنانچہ وہ پہلی تاریخی عورت جس نے اس مجلس شوری میں حصہ لیا وہ استانی نمونہ تھیں جو لجنہ اماء اللہ کی بڑی ہی سرگرم کارکن تھیں اور ہمارے ایک واقف زندگی وکیل ملک غلام احمد صاحب عطا کی والدہ تھیں انہوں نے پھر ایک دو منٹ میں اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔پس ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ پہلی مجلس مشاورت ہو گی جس میں عورت نے براہ راست خطاب کیا ہو بلکہ تیسری مجلس مشاورت ہوگی۔پہلی وہ تھی، دوسری وہ مجلس شوری جو بیرونی دنیا کے نمائندگان پر مشتمل تھی جو کہ اسی جلسہ سالانہ پر منعقد ہوئی تھی۔اس میں امریکہ اور افریقہ کی بعض نمائندہ خواتین نے براہِ راست اپنے مافی الضمیر کو پیش کیا تھا اور یہ یعنی موجودہ شورکی تاریخ احمدیت میں تیسری مجلس شوری ہے اور آئندہ سے انشاء اللہ تعالیٰ اسی طریق کو جاری رکھا جائے گا۔- اس سلسلہ میں غلط فہمی جو گزشتہ بحث کے مطالعہ سے سامنے آتی ہے وہ دُور ہونی چاہئے۔اور وہ اشارتاً تو حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے بیان فرما دی لیکن کھل کر اس پر گفتگو نہیں ہوئی۔اسلامی نظام شوری عورت یا مرد کے مشورہ دینے کے حق کی بات ہی کہیں نہیں کرتا۔بلکہ شوریٰ سے متعلق دو طرح کے اظہار ہیں۔ایک ہے شَاوِرُهُمْ فِی الْاَمرِ ـ اس میں مشورہ لینے والے کو حکم ہے یعنی اسے جو یا خود رسول ہو یا رسول کی مسند خلافت پر بیٹھا ہو اس کی نمائندگی میں اسے ظلی طور پر یہ آیت مخاطب کرے گی۔اس کے لئے حکم ہے فرض ہے کہ وہ لازماً مشورہ لے۔جہاں تک آنحضرت ملالہ کا تعلق ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ لینے کی سب سے کم ضرورت تھی دنیا میں آج تک کبھی کوئی انسان مشورہ سے اتنا مستغنی نہیں ہوا جتنا کہ حضرت محمد مصطفیٰ صل اللہ تھے کیونکہ جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا تعلق ہے اپنی صلاحیتوں کا اور فطرت کی جلا کا تعلق ہے اس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ تو ایسا نور تھا جو آسمانی شعلہ نور نازل نہ بھی ہوتا تب بھی بھڑک اٹھنے کے لئے تیار تھا یعنی آپ کی فطرت کامل طور پر پاکیزہ تھی۔در حقیقت تقویٰ ہی عقل کا دوسرا نام ہے تو کامل متقی انسان جو اپنی بناوٹ کے لحاظ سے ایسا متقی ہو کہ اس پر الہام کا نور نازل نہ بھی ہوا ہو تب بھی وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہو لازمی بات ہے کہ وہ دنیا میں سب سے کم مشورہ کا محتاج ہوتا ہے اور پھر یہ نور علی نور ہو کہ اس پر اللہ تعالیٰ کے الہام کا شعلہ نازل ہو چکا ہو