مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 363 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 363

بیمار کے لئے ساری رات دعا کرنا: صحابی مسیح موعود علیہ السلام چودھری حاکم دین صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ کی بیوی کو پہلے بچہ کی پیدائش کے وقت سخت تکلیف ہوئی۔چودھری صاحب رات کے گیارہ بجے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے گھر گئے۔چوکیدار نے اطلاع دینے سے انکار کر دیا مگر حضور رضی اللہ عنہ نے اندرون خانہ میں آواز سن لی اور آپ رضی اللہ عنہ نے ایک کھجور پر کچھ پڑھ کر ان کو دیا کہ بیوی کو کھلا دیں اور بچہ پیدا ہو جائے تو مجھے بھی اطلاع دیں۔تھوڑی دیر بعد بچی پیدا ہوئی مگر انہوں نے دوبارہ جا کر حضور رضی اللہ عنہ کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔مگر صبح حاضر ہوئے تو حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ بچی پیدا ہونے کے بعد تم میاں بیوی آرام سے سو رہے۔اگر مجھے بھی اطلاع دے دیتے تو میں بھی آرام سے سو رہتا۔میں تمام رات تمہاری بیوی کے لئے دعا کرتا رہا ہوں۔66 حضرت خلیفة امسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ : 553 ) حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ احباب جماعت سے محبت و پیار کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں دیانت داری سے کہہ سکتا ہوں کہ لوگوں کے لئے جو اخلاص اور محبت میرے دل میں میرے اس مقام پر ہونے کی وجہ سے جس پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے اور جو ہمدردی اور رحم میں اپنے دل میں پاتا ہوں وہ نہ باپ کو بیٹے سے ہے اور نہ بیٹے کو باپ سے ہو سکتا ہے۔پھر میں اپنے دل کی محبت پر انبیاء کی محبت کو قیاس کرتا ہوں جیسے ہم جگنو کی چمک پر سورج کو قیاس کر سکتے ہیں تو میں ان کی محبت اور اخلاص کو حد سے بڑھا ہوا پاتا ہوں۔“ (سوانح فضل عمر جلد 5 صفحہ 468) احباب جماعت کو اپنے آقا سے کس قدر محبت ہے اس کا اظہار کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے مجھے ایک ایسی جماعت کا انتظام سپرد کیا ہے جس کی نسبت اگر میں یہ کہوں کہ وہ میری آواز پر کان نہیں رکھتی تو یہ ایک سخت ناشکری ہوگی۔میری بات کی طرف توجہ کرنا تو ایک چھوٹی سی بات ہے میں دیکھتا ہوں کہ بہت ہیں جو میرے اشارے پر اپنی جان اور اپنا مال اور اپنی ہر عزیز چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔وَالْحَمْدُ لِلهِ عَلى ذلِکَ۔اور اس اخلاص بھری جماعت کو مخاطب کرتے وقت میرا دل اس یقین سے پر ہے کہ وہ فوراً اس نقص کو رفع کرنے کی کوشش کرے گی۔جس کی طرف میں نے ان کو متوجہ کیا ہے۔“ (سوانح فضل عمر جلد 2 صفحہ 85 ) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ خلافت سے محبت کرنے والوں اور خلافت کے منکرین کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: " کیا تم میں اور ان میں جنہوں نے خلافت سے رو گردانی کی ہے کوئی فرق ہے۔کوئی بھی فرق نہیں۔لیکن نہیں ایک بہت بڑا فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ تمہارے لئے ایک شخص تمہارا درد رکھنے والا، تمہاری محبت رکھنے والا، 363