مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 364
تمہارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا ، تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا ، تمہارے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا ہے۔مگر ان کے لئے نہیں ہے۔تمہارا اسے فکر ہے، درد ہے اور وہ تمہارے لئے اپنے مولیٰ کے حضور تڑپتا رہتا ہے لیکن ان کے ایسا کوئی نہیں ہے۔کسی کا اگر ایک بیمار ہو تو اس کو چین نہیں آتا۔لیکن کیا تم ایسے انسان کی حالت کا اندازہ کر سکتے ہو جس کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بیمار ہوں۔پس تمہاری آزادی میں تو کوئی فرق نہیں آیا ہاں تمہارے لئے ایک تم جیسے ہی آزاد پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوگئی ہیں۔“ جماعت سے محبت کا عجیب مظاہرہ: (برکات خلافت انوار العلوم جلد 2 صفحہ:158 ) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ 15 جولائی 1924ء کو بمبئی سے ایک اٹالین (Italian) کمپنی کے افریقہ نامی بحری جہاز کے ذریعہ لندن کے لیے روانہ ہوئے۔روانگی سے قبل محویت و توجہ کی ایک خاص کیفیت سے حضور رضی اللہ عنہ نے ایک پرسوز لمبی اجتماعی دعا کروائی۔حضور رضی اللہ عنہ نے عرشہ جہاز سے جماعت کے نام ایک محبت بھرا پیغام دیا: تم اندازہ بھی نہیں کر سکتے وہ ہمیشہ تمہارے ساتھ تھی اور ہے اور رہے گی۔میں زندگی میں یا موت میں تمہارا ہی ہوں۔“ (سوانح فضل عمر جلد 3 صفحہ 62,61 ) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ” دنیا میں تو یہ جھگڑے ہوتے ہیں کہ میاں بیوی کی لڑائی ہوتی ہے تو بیوی کہتی ہے مجھے زیور بنوا دو اور میاں کہتا ہے میں کہاں سے زیور بنوا دوں میرے پاس تو روپیہ ہی نہیں، لیکن میں نے اپنی جماعت میں سینکڑوں جھگڑے اس قسم کے دیکھے ہیں کہ بیوی کہتی ہے میں اپنا زیور خدا تعالیٰ کی راہ میں دینا چاہتی ہوں مگر میرا خاوند کہتا ہے کہ نہ دو کسی اور وقت کام آجائے گا۔غرض خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو ایسا اخلاص بخشا ہے کہ اور عورتیں تو زیور کے پیچھے پڑتی ہیں اور ہماری عورتیں زیور لے کر ہمارے پیچھے پھرتی ہیں۔میں نے تحریک وقف کی تو ایک عورت اپنا زیور میرے پاس لے آئی۔میں نے کہا میں نے سر دست تحریک کی ہے کچھ مانگا نہیں۔اس نے کہا یہ درست ہے کہ آپ نے مانگا نہیں، لیکن اگر کل ہی مجھے کوئی ضرورت پیش آگئی اور میں یہ زیور خرچ کر بیٹھی تو پھر میں کیا کروں گی۔میں نہیں چاہتی کہ میں اس نیکی میں حصہ لینے سے محروم رہوں۔اگر آپ اس وقت لینا نہیں چاہتے تو بہر حال یہ زیور اپنے پاس امانت کے طور پر رکھ لیں اور جب بھی دین کو ضرورت ہو خرچ کر لیا جائے۔میں نے بہتیرا اصرار کیا کہ اس وقت میں نے کچھ مانگا نہیں مگر وہ یہی کہتی چلی گئی کہ میں نے تو یہ زیور خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا ہے اب میں اسے واپس نہیں لے سکتی۔یہ نظارے غربا میں بھی نظر آتے ہیں اور امرا میں بھی لیکن امرا میں کم اور غربا میں زیادہ۔“ (سوانح فضل عمر صفحه 324 ) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ” مجھے ہمیشہ حیرت ہوا کرتی ہے اور میں اپنے دل میں کہا کرتا ہوں کہ الہی! تیری بھی عجیب قدرت ہے کہ تو نے کس طرح لوگوں کے دلوں میں میری نسبت محبت کے جذبات پیدا کر دیئے کہ جب کبھی سفر میں باہر جانے کا موقع ملے اور میں گھوڑے پر سوار ہوں تو ایک نہ ایک نوجوان حفاظت اور خدمت کے خیال سے میرے گھوڑے کے ساتھ پیدل چلتا چلا جاتا ہے اور جب میں گھوڑے سے اترتا ہوں تو وہ فوراً آگے بڑھ کر میرے 364