مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 362
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالٰی عنہ کے گھوڑے سے گرنے کی خبر جب احباب جماعت کو پہنچی تو احباب جماعت کا اپنے آقا سے محبت کی وجہ سے کیا رد عمل تھا اس کے متعلق حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی رضی اللہ عنہ الحکم میں تحریر کرتے ہیں: اسی روز جب آپ کے واقعہ کی خبر احمدی جماعت میں پہنچی تو عورتوں اور مردوں کا اثر دہام ہو گیا۔آپ نے یہ پیغام عورتوں کو دیا ان سے کہہ دو کہ میں اچھا ہوں میں گھبراتا نہیں اور نہ میرا دل ڈرتا ہے۔وہ سب اپنے گھروں کو چلی جائیں اپنا نام لکھوادیں، میں ان کے لئے دعا کروں گا۔میں مبالغہ کے رنگ میں نہیں اور نہ محض اعتقادی نظر سے کہتا ہوں بلکہ اصل بات ہی یہ ہے کہ آنحضرت صل اللہ کے امتی ،امتی کہنے کا۔اپنی تکلیف اور درد کو بھول کر۔اس گروہ اتقیا و خلفا کو ہر حالت میں اپنی قوم ہی یاد رہتی ہے۔ایسے وقت میں بھی یہی فرمایا کہ میں تمہارے لئے دعا کروں گا۔زندہ باش! اے ہمارے آقا اور تیری دعائیں ہمارے حق میں قبول ہوں۔پھر دعاوں کو آپ ذریعہ حل مشکلات کے ساتھ سمجھتے ہیں۔اس کا نمونہ بھی اس بیماری میں خصوصیت سے نظر آیا آپ نے اپنے خدام کو بار بار فرمایا کہ میرے لئے دعا کرو!“ حضرت خلیفة امسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: (احکم 28 نومبر 1910 ء جلد نمبر 14 نمبر 40 صفحہ 18 19 ) ”میری آرزو ہے کہ میں تم میں ایسی جماعت دیکھوں جو اللہ تعالیٰ کی محبّت ہو۔اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت محمد کی متبع ہو۔قرآن سمجھنے والی ہو۔میرے مولیٰ نے بلا امتحان اور بغیر مانگنے کے بھی مجھے عجیب عجیب انعامات دیئے ہیں جن کو میں گن بھی نہیں سکتا۔وہ ہمیشہ میری ضرورتوں کا آپ ہی کفیل ہوا ہے۔وہ مجھے کھانا کھلاتا ہے اور آپ ہی کھلاتا ہے۔وہ مجھے کپڑا پہناتا ہے اور آپ ہی پہناتا ہے۔وہ مجھے آرام دیتا ہے اور ہی آرام دیتا ہے۔اس نے مجھے بہت سے مکانات دیئے ہیں۔بیوی بچے دیے۔مخلص اور سچے دوست دیئے۔اتنی کتابیں دیں کہ دوسرے کی عقل دیکھ کر ہی چکر کھا جائے۔“ (حیات نور صفحہ 470 ) حضرت خلیفة المسیح الاوّل رضی اللہ تعالٰی عنہ کے خدام کو آپ سے کس قدر محبت تھی اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت (حضرت خلیفۃ اسیح الاول رضی اللہ عنہ) کے خدام کو قدرتاً اور فطرتاً آپ سے ایک خاص محبت ہے اور وہ دل چاہتے ہیں کہ آپ کو جلد شفا ہو اور آپ کو پھر ایک بار اسی شان و شوکت سے خدا تعالیٰ کے پاس کلام کی تدریس کرتے ہوئے دیکھیں۔اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔حضرت کی علالت کے ابتدائی ایام میں ڈاکٹروں اور بعض دوسرے خدام کے دو فریق ہو گئے۔ڈاکٹر صاحبان جو پوری ارادت۔وفاداری اور فرمانبرداری کے ساتھ حضرت کے علاج میں مصروف رہتے۔حضرت خلیفہ اُسیح کے لئے بعض انگریزی مقوی اور مفرح ادویات تجویز کرتے اور تیار کر کے دیتے۔بالمقابل بعض احباب کو یہ خیال گزرا کہ آریہ ادویات اپنے اندر حرارت زیادہ رکھتی ہیں اور اس وجہ حضرت شدت پیاس کو محسوس کرتے ہیں اور ایسا ہی ڈاکٹر نیند آور ادویات دینا چاہتے تو یہ لوگ پسند کرتے کہ ادویات کے ذریعہ نیند لانے کی کوشش نہ کی جاوے ان ہر دو فریقوں میں عجیب عجیب مکالمے ہوتے۔“ (الحکم جلد نمبر 14 نمبر 41 ، 7 دسمبر 1910 ء ) 362