مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 302 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 302

دعاؤں کی برکت: 10 فروری 1911ء کو بیماری کے ایام میں بروز جمعتہ المبارک حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ نے احباب کو مخاطب کر کے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا مجھ پر بڑا فضل ہے۔اس بیماری میں خدا تعالیٰ نے اپنی قدرتوں اور بندہ نوازیوں کے عجیب جلوے دکھائے ہیں۔میں اس بیماری میں دعاؤں کا بڑا قائل ہو گیا ہوں۔دعائیں مجھ پر بڑا بڑا فضل کرتی ہیں۔میرے خدا نے مجھ پر بڑے بڑے احسان کئے ہیں۔میرا جی چاہتا ہے، خدا تعالیٰ مجھ کو طاقت دے تو میں تم پر وہ انعامات بیان کروں جو خدا تعالیٰ نے مجھ پر فرمائے ہیں۔آج مجھ کو الہام ہوا ہے۔کہ اَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاکَ۔نیند کے لئے ڈاکٹر مجھے دوائی پلاتے تھے کہ کسی طرح نیند آجائے اور نیند نہیں آتی تھی آج میں نے دوا جو چھوڑ دی تو پانچ گھنٹے نیند آئی۔خدا تعالی بڑا بادشاہ ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“ (حیات نور ص500) 302 ایک مبشر کشف: حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ مجھے رویا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی کمر پر اس طرح اٹھا رکھا ہے جس طرح چھوٹے بچوں کو مشک بناتے ہوئے اٹھاتے ہیں پھر میرے کان میں کہا تو ہم کو محبوب ہے۔“ إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ: حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 66 (حیات نور صفحہ نمبر 519 تا520) میں نے بہت عرصہ پہلے خواب میں دیکھا کہ خدا کا غضب بھڑک اٹھا ہے اور زمین تاریک ہو چلی ہے۔پہلے طاعون پھیلا ہے پھر اس کے بعد ہیضہ پڑا ہے۔چند خاص دوستوں کو میں نے یہ خواب سنا بھی دیا اور دعا شروع کی کہ انہی! تو اپنے فضل وکرم سے احمدی جماعت، پھر خصوصیت سے قادیان کی جماعت پر اپنا رحم فرما۔پھر چند روز ہوئے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ملک میں خطرناک طاعون ہے اور ایک عظیم الشان محل ہے جس میں ہم لوگ ہیں گویا خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم پہلے یہ وعدہ کر چکے ہیں کہ: إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدار۔اب صرف اتنی بات ہے کہ ہم اپنے تئیں اس محل میں رہنے کے اہل ثابت کریں۔پھر کچھ دن ہوئے میں نے دیکھا کہ انہی ہماری دکانوں پر شیر حملہ کر رہا ہے۔پس میں ڈر گیا اور بہت دعا کی اور بارگاہ الہی میں عرض کیا کہ طریق نجات کیا ہے؟ تو مجھ پر کھولا گیا کہ خدا کے حضور کھڑے رہنا اور دعائیں۔طوفان میں ایک کشتی ہے جو ٹوٹی ہوئی ہے مگر دعاؤں سے جڑ سکتی ہے۔پھر میں اس بات پر غور کر رہا تھا کہ ملک میں وبا کیوں پھیلتی ہے؟ تو ایک ملک (فرشتہ) نے ابھی رستے میں آتے ہوئے مجھے تحریک کی کہ مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الدريت: 57) - ہر شخص فائدے کے لئے کوئی چیز بناتا ہے۔مثلاً باغبان درخت لگاتا ہے، اب جب تک وہ چیز مثلاً درخت فائدہ دے اسے نہیں اُکھیڑا جاتا لیکن جب وہ غرض جس کے لئے وہ شے بنائی گئی