مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 303
پوری نہ کرے تو پھر اس شے کو توڑ دیا جاتا ہے۔“ رحمت الہی: (خطبات نور صفحہ نمبر 487) پنڈ دادن خان میں رہائش کے دوران حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے ایک رؤیا دیکھا جسے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک اور رویا میں نے پنڈ دادن خان میں دیکھا۔وہاں ایک رشتہ دار تھا جو اپنی فضولیوں میں بڑا مشہور تھا۔میں نے اس کو دیکھا کہ وہ بہشت میں ایک بڑی اونچی اٹاری پر ہے۔جب میں نے اس کو اور اس نے مجھ کو دیکھا تو میں نے اس سے کہا کہ تم تو بڑے سیہ کار تھے تم کو بہشت میں اور پھر عرفات میں کیونکر موقع ملا؟ اس نے جواب میں کہا کہ: ”میری غریب الوطنی پر جناب الہی نے رحم فرمایا۔“ میں نے بیداری کے بعد اس کی بہت جستجو کی مگر کہیں پتہ نہ لگا۔یہی معلوم ہوا کہ عرصہ سے مفقود الخبر ہے۔دو برس کے بعد ایک میرے رشتہ دار نے مجھ کو بتایا کہ فلاں آدمی بمبئی کے قریب ایک مقام کلیانی میں مر گیا ہے۔وہ مکہ معظمہ کو پا پیادہ جاتا تھا۔“ بشارت 8 فروری 1914 ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (مرقاة اليقين طبع اول 1912ء ص 160) ”خدا تعالیٰ نے اس بیماری میں مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ پانچ لاکھ عیسائی افریقہ میں مسلمان ہوں گے۔پھر فرمایا: مغربی افریقہ میں تعلیم یافتہ ہوں گے۔“ مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا فائدہ:۔روزنامه الفضل ربوه 22 مئی 1999 ، صفحہ نمبر 5) حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نواب خان صاحب تحصیلدار مرحوم نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں نے حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب سے ایک دفعہ عرض کیا کہ مولانا! آپ تو پہلے ہی باکمال بزرگ تھے آپ کو حضرت مرزا صاحب کی بیعت سے زیادہ کیا فائدہ ہوا؟ اس پر حضرت مولانا صاحب نے فرمایا: نواب خان! مجھے حضرت مرزا صاحب کی بیعت سے فوائد تو بہت حاصل ہوئے ہیں لیکن ایک فائدہ ان میں سے یہ ہوا ہے کہ پہلے مجھے زیارت بذریعہ خواب ہوا کرتی تھی اب بیداری میں بھی ہوتی ہے۔“ حیات نورص 195-196 از حضرت مولانا شیخ عبالقادر صاحب سابق سوداگر مل مقام اشاعت چراغ سٹریٹ نمبر 3 دہلی دروازہ لاہور نومبر 1963 ء) جنتی ہونے کی دعا: 303