خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 337
۳۳۳ یعنی یہ لوگ بظاہر دینی احکامات کی پابندی اور عبادات کی ادائیگی میں اس قدر غلو کریں گے کہ ان کے مقابل پر دوسرے لوگ اپنی عبادت کو کم اور تھوڑا سمجھیں گے لیکن باطنی طور پر یہ ہدایت اور نور سے خالی ہوں گے۔چنانچہ بعد میں یہ شخص اور اس کے قبیلہ کے لوگ اس گروہ کے سردار بنے جنہوں نے حضرت علیؓ کے زمانہ میں بغاوت کی اور خوارج کے نام سے مشہور ہوئے۔یہ کہنا کہ ” جماعتی فنڈ کسی فرد کو ذاتی استعمال کے لئے نہیں دیئے جانے چاہئیں، چاہے وہ خلیفہ وقت ہی کیوں نہ ہو۔یہ امرا خلاقی اور قانونی ہر دو پہلوؤں سے محلِ نظر ہے۔“ در اصل یہ اسی اعتراض کی بازگشت ہے جو ذوالخویصرہ نے آنحضرت تم پر کیا تھا۔یعنی صرف چہرے بدلے ہیں اور زمانہ بدلا ہے، جبکہ اعتراض اور اس کی روح وہی ہے۔اس اعتراض میں ایک خاص جھلک یہ بھی دکھائی دیتی ہے کہ گویا خلیفہ وقت کو چاہئے کہ وہ ایسے لوگوں کی خواہشات اور توقعات کے مطابق عمل کیا کرے۔یہ لوگ فیصلہ کریں کہ جماعت کے کام چلانے کے لئے فنڈ ز کس کو اور کہاں دینے چاہئیں۔اور یہ لوگ خلیفہ وقت کو بتائیں گے کہ اموال کے مصارف میں اخلاقی ضابطے کیا ہوتے ہیں اور قانونی تقاضے کیا ہیں۔نعوذ باللہ من ذلک حقیقت یہ ہے کہ جس کے ہاتھ پر انسان پکتا ہے اور جس وجود کی وہ بیعت کرتا ہے تو وہ اسے اپنا مالک اور آقا بناتا ہے۔پھر اسے اپنے اسی مالک اور آقا کے اشارے پر چلنا ہوتا ہے ، مالک اور آقا اپنے غلام اور بیعت کنندہ کی خواہشات کی یا ارادوں کی پیروی نہیں کیا کرتا۔پس سائل کا مذکورہ بالا خیال ایسی الٹی گنگا ہے جس میں اترنے والا صرف عقل و دانش کا دامن ہی نہیں چھوڑتا بلکہ دائرہ اطاعت سے نکل کر اپنے ایمان کو بھی خیر باد کہ دیتا ہے۔قرآن کریم تو بیعت کنندگان کے لئے یہ ضروری قرار دیتا ہے کہ جب وہ نبی کریم ہم کے پاس جائیں تو صدقہ پیش کریں۔یہ اصول آپ کی نیابت میں خدا تعالیٰ کے قائم کردہ ہر امام وقت پر صادق آتا ہے۔یعنی قرآنی تعلیم کے مطابق امام وقت کے حضور صدقات و اموال پیش کرنا ،مومن کے ایمان کی ایک نشانی ہے۔اموال کی اس پیشکش کی سند اور بیعت کی بنیا دسورۃ التوبہ کی وہ آیتِ کریمہ بھی ہے جس کا ذکر ابتداء میں کیا گیا ہے۔اگر کوئی ان سچائیوں سے نا آشنا ہو یا عمدا گریزاں ہو