خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 336 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 336

۳۳۲ ( صدقات ) میں سے کچھ انہیں دے دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان میں سے نہ دیا جائے تو وہ فورانا راض ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جو علام الغیوب ہے اور دلوں کے پاتال تک کی خبر رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ ایسے الزام لگانے والے کس ذہنیت کے لوگ ہیں اور وہ خواہش کیا رکھتے ہیں۔چنانچہ یہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے مقدس بندوں پر اس قسم کے اعتراض کرنے والے کو خواہ وہ پہلے گزرے ہوں ،اب موجود ہوں یا بعد میں آئیں عموماً خود مالی قربانی کرنے والوں کی صف میں سب سے پیچھے کھڑے ہوں گے یا وہ محض تماش بینوں کی حیثیت رکھتے ہوں گے۔ایسے لوگوں کا مقصد نہ کبھی پہلے نیک ہوانہ آئندہ ہو گا۔ایسے لوگ تو محض نفاق پھیلانے یا کسی ذاتی انتقام کے در پے ہوتے ہیں۔اور ہاں ان میں سے بعض کی ایک صفت یہ بھی ہوتی ہے کہ فَاِنْ أَعْطُوْا مِنْهَا رَضُوا وَ إِنْ لَّمْ عْطُوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ۔اگر ان ( صدقات ) میں سے کچھ انہیں دے دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان میں سے نہ دیا جائے تو وہ فور ناراض ہو جاتے ہیں۔چنانچہ روایت ہے کہ آنحضرت سلم غزوہ حنین میں حاصل ہونے والے اموال غنائم نیز اپنا پانچواں حصہ ( شمس ) وغیرہ تمام اموال تقسیم فرما چکے تھے۔پھر بھی بعض سنگدل ایسے تھے کہ جو آپ تقسیم اموال میں نا انصافی کا الزام لگا رہے تھے۔چنانچہ ہو تمیم میں سے ایک بدقسمت شخص جس کا نام ذوالخویصرہ تھا، آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا آج آپ نے انصاف نہیں کیا۔آپ نے فرمایا: " تم پر رض افسوس ہے۔اگر میں انصاف نہ کروں گا تو دنیا میں اور کون ہے جو انصاف کرے گا۔“ اس پر صحابہ غیرت وغصہ میں اٹھے۔حضرت عمرؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اُڑا دوں۔آپ نے فرمایا: ” اس کو رہنے دو، کیونکہ اس جیسے اور بھی اس کے ساتھی ہیں۔تم ان کی نمازوں کے مقابل پر اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے مقابل پر اپنے روزوں کو حقیر جانو گے۔یہ قرآن بہت پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔یہ دین سے اس طرح نکلیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔“ ( بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة ومسند احمد مسند المكثرين من الصحابة ومسلم کتاب الزكوة باب ذكر الخوارج والسيرة الحلبيه )