خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 21 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 21

۲۱ السلام سے قبل مگر آپ کے زمانہ سے پیوستہ زمانہ کا یہ جلیل القدر بزرگ سے بھی السنیہ، جامع المبدعة، محدث وفقیہ بے بدل، عارف باللہ، عاشق رسول اور مجاہد فی سبیل اللہ قرار دیا گیا، عرفان خلافت کی ایسی ایسی باتیں لکھ گیا ہے کہ جیسے وہ دور آخرین میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی بابت خلافت علی منہاج النبوۃ کو پورے جلال اور عظمت کے ساتھ امت کے دروازہ پر دستک دیتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔وہ اس سارے عرفان کو بانٹتے ہوئے مسیح و مہدی کی خلافت کی عظمت کی بھی نشاندہی کر رہا تھا اور گویا خفتگان امت کو بیدار کر رہا تھا کہ اٹھو اور اس نعمت خداوندی سے جھولیاں بھر لو۔مبادا کہ اس عطیہ ورحمت الہیہ سے محروم ہو جاؤ۔اس نعمت کی طرف کھینچنے کے لئے وہ اس کی عظمت اس طرح بیان کرتا ہے کہ خلیفہ راشد سایه رب العلمین ، ہمسایہ انبیاء مرسلین ،سرمایہ ترقی دین اور ہم پائیہ ملائکہ مقربین ہے۔دائرہ امکان کا مرکز ، تمام وجوہ سے باعث فخر اور ارباب عرفان کا افسر ہے۔دفتر افراد انسی کا ستر ہے۔اس کا دل تجتبی رحمن کا عرش اور اس کا سینہ رحمت وافرہ اور اقبال جلالتِ یزداں کا پرتو ہے۔اس کی مقبولیت جمال ربانی کا عکس ہے۔اس کا قہر تیغ قضا اور مہر عطیات کا منبع۔اس سے اعراض معارضہ تقدیر اور اس سے مخالفت مخالفت رب قدیر ہے۔جو کمال اس کی خدمتگزاری میں صرف نہ ہو خیال ہے پُر از خلل ، اور جو علم اس کی تعظیم و تکریم کے بیان میں نہ لایا گیا، سراسر و ہم باطل و محال ہے۔جو صاحبِ کمال اس کے ساتھ اپنے کمال کا موازنہ کرے وہ مشارکت حق تعالیٰ پر مبنی ہے۔اہلِ کمال کی علامت یہی ہے کہ اس کی خدمت میں مشغول اور اس کی اطاعت میں مبذول رہیں۔اس کی ہمسری 66 کے دعوئی سے دستبردار ہیں اور اسے رسول کی جگہ شمار کریں۔“ منصب امامت از حضرت سید محمداسمعیل شہید (مترجم) صفحه ۸۲، ۸۳ مطبوعہ ۱۹۴۹ء ناشر حکیم محمدحسین مومن پورہ لاہور ) حضرت سید محمد اسمعیل شہید کے یہ سارے اقتباس سونے کے پانی سے لکھنے والے ہیں۔