خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 20
نیز فرمایا: نہ بھریں۔“ منصب امامت از حضرت سید محد اسمعیل شہید (مترجم) صفحه ۹۳ مطبوعه ۱۹۴۹ء ناشر حکیم محمد حسین مومن پورہ لاہور ) امام، رسول کے سعادت مند فرزند کی مانند ہے اور تمام اکابر امت و بزرگانِ ملت ملازموں اور خدمتگاروں اور جانثار غلاموں کے مانند ہیں پس جس طرح تمام اکابر سلطنت و ارکان مملکت کے لئے شہزادہ والا قدر کی تعظیم ضروری اور اس سے توسل واجب ہے اور اس سے مقابلہ کرنا نمک حرامی کی علامت اور اس سے مفاخرت کا اظہار بد انجامی پر دلالت کرتا ہے۔ایسا ہی ہر صاحب کمال کے حضور میں تواضع اور تذلل سعادت دارین کا باعث ہے۔اور اس کے حضور اپنے علم و کمال کو سمجھ بیٹھنا دونوں جہان کی شقاوت ہے۔اس کے ساتھ یگانگی رکھنا رسول سے یگانگت ہے اور اس سے بیگانگی ہو تو رسول سے بیگانگی ہے۔خصوصاً اس وقت جبکہ نیابت پیغمبر بھی اللہ رب العزت کی طرف سے اسے تفویض ہو چکی ہو۔۔۔۔۔۔۔امام وقت سے سرکشی اور روگردانی اس کے ساتھ گستاخی ہے اور اس کے ساتھ بلکہ خود رسول کے ساتھ ہمسری ہے۔اور خفیہ طور پر خود رب العزت پر اعتراض ہے کہ ایسے ناقص شخص کو کامل شخص کی نیابت کا منصب عطا ہوا۔الغرض اس کے توسل کے بغیر تقرب الہی محض خلل وو ہم اور ایک خیال ہے جو سراسر باطل اور محال ہے۔“ منصب امامت از حضرت سید محمد اسمعیل شہید (مترجم) صفحه ۷۸ مطبوعہ ۱۹۴۹ء نا شرحکیم محمدحسین مومن پورہ لاہور ) یہ اقتباسات خلافت کے مقام و مرتبہ اور تقدس وعظمت کے عرفان کی شیرینی سے اس طرح لبریز ہیں کہ ان کے ایک ایک بیان سے نعمائے خلافت کا شہد ٹپکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ