خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 22
۲۲ ان کی ڈیڑھ صد صفحات پر مشتمل مختصری کتاب ” منصب امامت مئے علم و ایمان و عرفانِ خلافت سے چھلک رہی ہے۔مسلمانانِ ہند کے ایک ممتاز عالم مسلمہ مفکر اور تحریک خلافتِ ہند کے لیڈر مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی خلافت کی عظمت و اہمیت پر قلم اٹھایا ہے جس کے حسب ذیل ترقحات ملاحظہ ہوں۔وہ لکھتے ہیں: بوت کا مقام تعلیم و تربیت امت کی مختلف قوتوں سے مرکب تھا۔قرآن حکیم نے ان کو تین اصولی قسموں میں بانٹ دیا ہے۔يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَتِهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ - - (۳-۶۲) تلاوت آیات۔تزکیہ نفوس۔تعلیم کتاب و حکمت۔خلفاء راشدین ان تینوں منصبوں میں وجودِ نبوّت کے نائب تھے۔وہ منصب اجتہاد و قضاء شرع کے ساتھ قوتِ ارشاد و تزکیہ و تربیت بھی رکھتے تھے۔وہ ایک صاحب وحی کی طرح خدا کے کلام کی منادی کرتے ایک ایک نبی کی طرح دلوں اور روحوں کو پاکی بخشتے اور ایک رسول کی طرح تعلیم کتاب اور حکمت و سنت سے امت کی تربیت و پرورش کرنے والے تھے۔جسموں کا نظام بھی انہی کے ہاتھوں میں تھا، دلوں کی حکمرانی بھی انہی کے قبضہ میں تھی۔یہی حقیقی اور کامل معنی منصب نبوت کی نیابت کے ہیں اور اسی لئے ان کا وجود اور ان کے اعمال بھی اعمال نبوت کا ایک آخری جزء تھے کہ "عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِيْنَ “۔اورُ وَ عَضُوْا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ “ کے حکم میں نہ صرف سنّتِ عہد نبوت بلکہ خلافت را شده و خاصه کی سنت بھی داخل ہوئی اور شرح اس سر الہی کی بہت طولانی ہے، یہاں محض اشارت مطلوب۔“ (مسئلہ خلافت صفحه ۲۱،۲۰ مطبوعہ خیابان عرفان کچہری روڈ لاہور )