خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 191 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 191

۱۸۸ تجدید و ممکنت و استحکام دین کے چند امور کا ذکر ذیلی تنظیموں کا قیام حضرت مصلح موعود کا ایک بہت بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے جماعت کو مختلف ذیلی تنظیموں صلى الله میں منسلک کر کے ان کی تعلیمی وتربیتی اقدار کو محفوظ و تحکم کرنے کا شاندار و پائیدار نظام جاری فرما دیا۔(۱) لجنہ اماءاللہ کا قیام عورتیں قوم کا آدھا دھڑ ہوتی ہیں بلکہ بعض لحاظ سے ان کا کام مردوں سے بھی زیادہ ذمہ داری کا رنگ رکھتا ہے کیونکہ قوم کا آئندہ بوجھ اُٹھانے والے نو نہال انہی کی گودوں میں پرورش پاتے ہیں۔اسی لئے حضرت محمد ﷺ نے لڑکیوں کی تربیت پر خاص زور دیا ہے تا کہ وہ اس کام کے قابل بنائی جاسکیں جو بڑے ہو کر انہیں پیش آنے والا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بھی اس نکتہ کو ابتداء سے ہی مد نظر رکھا اور احمدی مستورات کی تنظیم اور تربیت کی طرف خاص توجہ فرمائی۔چنانچہ ۱۹۲۲ء کے آخر یا ۱۹۲۳ء کے شروع میں آپ نے قادیان میں لجنہ اماءاللہ کی بنیاد رکھی۔یہ انجمن خالص مستورات کی انجمن تھی اور اب تک ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے مخصوص فرائض مثلاً عورتوں کے چندوں کا حصول، عورتوں میں تبلیغ ، لڑکیوں کی تعلیم ،مستورات کی تربیت اور تنظیم وغیرہ کا کام لیتی ہیں۔اور جب قادیان کی لجنہ کچھ عرصہ کام کر کے اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگئی تو آپ نے بیرونی جماعتوں میں بھی تحریک فرمائی کہ وہ اپنی اپنی جگہ مقامی لجنہ قائم کریں۔چنانچہ اب خدا کے فضل سے دنیا کے کونے کونے میں لجنات قائم ہیں اور ان کے ذریعہ احمدی مستورات میں بہت بڑی بیداری اور دعوت و تبلیغ اور خدمت انسانیت کے لئے کام کی زبر دست روح پیدا ہو رہی ہے۔(۲) ناصرات الاحمدیہ ۱۹۴۵ء میں ناصرات الاحمدیہ کے نام سے احمدی بچیوں کی ایک علیحدہ ذیلی تنظیم تشکیل و گئی۔یہ تنظیم صدر لجنہ کی ہدایت کے ماتحت سیکرٹری ناصرات الاحمدیہ کے زیر نگرانی کام کرتی ہے۔اس تنظیم کے بنیادی مقاصد بچیوں کی تربیت اور ان میں دینی روح کو جا گر کرنا اور ان کی تعلیم کا انتظام