خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 192
۱۸۹ وانصرام کرنا ہیں۔(۳) خدام الاحمدیہ کا قیام ۱۹۳۸ء کے شروع میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانی نے خدام الاحمدیہ کی بنیاد رکھی۔اس کی بڑی غرض و غایت جماعت کے نوجوانوں کی تنظیم وتربیت تھی تا کہ ان نو نہالوں کو اس اہم کام کے قابل بنایا جاسکے جو کل کو ان کے کندھوں پر پڑنے والا ہے۔اس مجلس کے موجودہ پروگرام میں منجملہ دیگر امور کے مندرجہ ذیل باتیں نمایاں ہیں: اوّل: خدمت خلق دوم لوگوں کے دلوں میں اس احساس کو پیدا کرنا اور انہیں اس کی عملی تربیت دینا کہ کوئی کام بھی انسان کی شان سے بعید نہیں اور یہ کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنا انسان کے لئے موجب عزت ہے نہ کہ باعث ذلت و شرم۔سوئم: جماعت کے ناخواندہ لوگوں کی پرائیویٹ تعلیم کا انتظام کرنا چہارم: جماعت کے اندر خلیفہ وقت اور نظام سلسلہ کے متعلق جذبات اخلاص و محبت و وفاداری کو ترقی دینا وغیرہ وغیرہ۔سوخدا کے فضل سے یہ سارے کام خدام الاحمدیہ کے ذریعہ سے بڑی خوبی کے ساتھ سرانجام پارہے ہیں۔اس مجلس کے لئے حضور نے ایک عہد نامہ بھی تجویز کیا جو وہ اپنے ہر اجلاس میں دوہراتے ہیں۔(۴) اطفال الاحمدیہ کا قیام تربیتی امور کی ابتداء چھوٹی عمر سے ہونا ضروری ہے کیونکہ اس عمر سے حافظہ اور عادات کو خاص نسبت ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۳۸ء میں احمدی بچوں کی تربیت کے لئے ایک علیحدہ تنظیم قائم فرمائی جس کا نام آپ کی منظوری سے اطفال الاحمدیہ" رکھا گیا۔حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا: