خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 6
عدُوِّهِمْ وَإِظْلَامِ الْجَوَ بِفَقْدِ نَبِيِّهِمْ تاریخ ابن الخلدون جلد ۲ صفحه ۵۶ باب خبر السقیفه و ابن اثیر ذکر انفاذ جیش اسامہ بن زید) کہ اپنی قلت تعداد اور کثرت دشمن کی وجہ سے اپنے نبی کی وفات کے باعث مسلمانوں کی حالت ایسی تھی جیسے طوفانِ با دو باراں والی شب تیرہ و تار میں بکریوں کا ریوڑ ہو۔اس انتہائی خوفناک حالت میں خدا تعالی نے اپنا وعده وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا (اور ہم ان کے خوف کو امن کی حالت میں بدل دیں گے ) پورا کیا اور حضرت ابوبکر کوخلیفہ الرسول اور امیر المومنین کی خلعت عطا کی۔یہ پہلا خلیفہ الرسول "عزم کی چٹان اور استقلال کی آہنی دیوار بن کر اس کفر وارتداد کے طوفان کے مقابل کھڑا ہو گیا۔خلیفہ اول کے حضور اس قسم کی تجاویز پیش ہونے لگیں کہ ان حالات میں اگرا کا برصحابہ اور چوٹی کے جانباز مدینہ سے باہر ہوں تو دفاعی اعتبار سے مدینہ انتہائی کمزور رہ جائے گا۔وغیرہ وغیرہ۔ان مشوروں پر خلیفتہ الرسول حضرت ابو بکڑ نے اپنے آقا و مولی کے لئے غیرت سے بھر کر ، تو تکل علمی اللہ کی چٹان پر قائم ہوکر ، کمال اعتماد کے ساتھ فرمایا : وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ لَوْ جَرَّتِ الْكِلَابُ بِأَرْجُلِ أَزْوَاجِ رَسُوْلِ اللهِ الله مَا اَرُدُّ جَيْشًا وَجَهَهُ رَسُوْلُ اللهِ ع وَلَا حَلَلْتُ لِوَاء عَقَدَهُ (زرقانی، ابن سعد والسيرة الحلبية سرية اسامة بن زيد) کہ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔اگر کتے رسول اللہ ﷺ کی ازواج کی ٹانگیں بھی کھینچتے پھریں تو بھی میں اس لشکر کو نہیں روکوں گا جس کی روانگی کا حکم رسول اللہ ﷺ نے جاری فرمایا تھا اور نہ ہی اس جھنڈے کو کھولوں گا جو رسول اللہ سلیم نے خود باندھا تھا۔اس لشکر کی روانگی کی ضرورت ظاہر کرنے کے لئے حضرت ابو بکر یہاں عام طرز پر بھی بات کر سکتے تھے مگر خاص طور پر ازواج رسول اللہ کا ذکر کرنا لازماً خاص حالات کے پیش نظر انتہائی غیرت کے اظہار کی نشاندہی کرتا ہے۔حضرت ابو بکر نے دراصل یہاں امت کو یہ سبق دیا تھا کہ احکام