خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 5 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 5

اس واقعہ سے ثابت ہو گیا کہ جس طرح مقام نبوت پر فائز شخص کو دنیا کی کوئی طاقت جنبش نہیں دے سکتی اسی طرح مسند خلافت پر متمکن وجود نا قابل تسخیر ہوتا ہے۔جس طرح خدا تعالیٰ کا نبی اس کی صفات کا مظہر کامل ہوتا ہے اسی طرح خلیفہ وقت کے وجود میں بھی دنیا خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے مشاہدہ کرتی ہے۔وہ واقعہ یہ تھا کہ پیارے آقا، سردار دو جہاں ، سید ولد آدم حضرت محمد مصطفی نے آخری علالت میں شام کے ایک علاقہ انکی میں (جوموتہ کے قریب تھا ) بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر شکر کشی کا حکم دیا اور ایک فوج کی تیاری کا ارشاد فرمایا اور اس کی سپہ سالاری حضرت اسامہ بن زیڈ کے سپرد کی۔ابھی یہ لشکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے حضور حاضر ہو گئے۔پیارے آقا و مطاع کی وفات ہر مسلمان کے لئے گہرے غم کا موجب تھی ، اپنے محبوب کی جدائی کے صدمہ سے روحیں گھائل اور جگر چھلنی تھے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کے وصال کی خبر جب اکناف میں پھیلی تو عرب کے بعض دیگر قبائل کے ساتھ عیسائی اور یہودی قبائل بھی دلیر ہو گئے۔شام کے سرحدی قبائل بن قضاعہ میں سے بھی بعض ارتداد کی اس آندھی میں گم گشتہ راہ ہو گئے تھے۔اسی طرح عرب کے مختلف اطراف سے اور مدینہ کے قرب و جوار سے خبریں موصول ہونے لگیں کہ بعض قبائل زکوۃ و صدقات کی ادائیگی سے منکر ہو رہے ہیں اور بعض مرتد ہو کر بغاوتیں اور یورشیں کرنے لگے ہیں اور ان کی طرف سے جارحانہ حملوں کا امکان ہے۔مدینہ ہر طرف سے شدید خطرہ میں ہے۔دشمنانِ اسلام، اسلام کو صفحہ ہستی سے نابود کرنے کے لئے اپنی تلواروں کو آب دے رہے تھے۔ان حالات میں اسلام کے بارہ میں دشمنوں کا تصورتھا کہ یہ ”چراغ سحر ہے، بجھا چاہتا ہے“ گویا عناد، ارتداد اور مخالفت کے طوفان میں اسلام اس جزیرے کی طرح دکھائی دیتا تھا جو بھرے ہوئے سمندر میں بے بسی سے اس کی لہروں کو جذب کرتا ہے۔اسلام کی اس حالت کی مثال علامه ابن خدون نے ان الفاظ میں دی ہے۔الْمُسْلِمُوْنَ كَالْغَنَمِ فِي اللَّيْلَةِ الْمُمْطِرَةِ لِقِلَّتِهِمْ وَ كَفْرَةِ