خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 134 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 134

۱۳۲ حضرت عمرؓ نے آپ کو باہر بلوایا۔آپ نے جواب دیا کہ آپ بے حد مصروف ہیں۔حضرت عمرؓ نے دوبارہ پیغام بھجوایا کہ ایک ایسا واقعہ پیش آگیا ہے کہ آپ کا وہاں موجود ہونا از حد ضروری ہے۔آپ باہر آئے اور حضرت عمرؓ سے کہنے لگے کہ اس وقت رسول اللہ یا کہ تجہیز و تکفین سے زیادہ اہم اور کون سا کام ہے جس کے لئے تم نے مجھے بلایا ہے۔حضرت عمررؓ نے بتایا کہ انصار سقیفہ بنو ساعدہ میں جمع ہیں اور ارادہ کر رہے ہیں کہ سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنالیں۔ان میں یہ رائے بھی ہے کہ ایک امیر انصار سے ہو اور ایک (مہاجرین) قریش میں سے۔یہ سنتے ہی حضرت ابوبکر حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح " کے ہمراہ سقیفہ کی جانب روانہ ہوگئے۔( ابن اخیر حدیث السقيفة و خلافتہ ابی بکر وارضاہ وابن ہشام امرسقیفہ بنی ساعدة) سقیفہ میں پہنچے تو انصار ابھی اسی گفتگو میں مشغول تھے۔حضرت سعد بن عبادہ بھی کمبل اوڑھے وہیں موجود تھے۔حضرت عمر انہیں پہچان نہ سکے تو ان کے بارہ میں پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ بتایا گیا کہ یہ سعد بن عبادہ ہیں اور بخار کی وجہ سے علیل ہیں۔( صحیح بخاری کتاب الحدود ما سحذر من الحدود باب رحم الحبالى من الزنى اذا أحصنت ) حضرت ابو بکر کے وہاں پہنچنے پر انصار نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔حضرت ابوبکر نے بھی اپنی رائے ظاہر فرمائی۔امت کے بہتر مستقبل کے لئے ہر طرح کی آراء کا اظہار ہوا۔اس تمام کارروائی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انصار و مہاجرین سب اسلام کے مفاد میں سوچتے تھے۔روایات میں مذکور تفصیل میں ان کی سوچوں میں بعض اوقات قبائلی عصبیت کا رنگ بھی جھلکتا ہوا نظر آتا ہے اور کبھی یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ اس نازک موڑ پر خیالات اور حالات کا رُخ بدلنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔اس کے باوجود صحابہ خواہ وہ انصار تھے یا مہاجر ، آنحضرت میم کے بعد خلافت کے متلاشی تھے۔اور وہ ایک دن بھی بغیر جماعت اور امیر کے نہیں گزارنا چاہتے تھے۔چنانچہ ایک رائے یہ تھی کہ انصار میں سے امیر ہو۔دوسری رائے یہ تھی کہ مہاجرین ( قریش) میں سے امیر ہو کیونکہ قریش کے بغیر عرب کسی کی سربراہی قبول نہ کرے گا۔اسی بحث و تمحیص