خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 133
۱۳۱ آئندہ بھی اسلام کی کامیابی کے لئے انصار کو مسلمانوں کی قیادت سپر د ہونی چاہئے۔آپ نے اپنے اس خطاب میں انصار کو یہ نصیحت فرمائی کہ جو اعزاز انہیں آنحضرت ام کی وجہ سے نصیب ہوا تھا، وہ اسے آپ کی وفات کے بعد ضائع نہ ہونے دیں بلکہ حسب سابق خدمت اسلام کے لئے ہر قربانی کی پیشکش کے لئے تیا ر ر ہیں۔اس ترغیب سے بعض انصار نے یہ سمجھا کہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انصار کو عنانِ حکومت تھامنے کی ترغیب دی ہے۔چنانچہ انہوں نے آپ سے کہا کہ اس منصب کے اہل آپ ہی ہیں۔اسی لمحہ ایک شخص نے انصار سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر مہاجرین نے انصار کے امیر کی بیعت سے انکار کر دیا تو پھر کیا ہوگا؟ کیونکہ وہ آنحضرت ام کے اولین صحابہ ہیں ، اہل بیت رسول ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح اس نے مہاجرین کے دیگر مناقب بیان کئے۔دوسرے نے اس کا جواب یہ دیا کہ ہم انہیں کہیں گے کہ ” مِنَّا أَمِيْرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر اُن میں سے مقرر ہو جائے۔اس کے سوا ہم کسی اور تجویز پر راضی نہ ہوں گے۔حضرت سعد بن عبادہ نے جب یہ سنا کہ انصار اس بات کو پیش کرنا چاہتے ہیں کہ ”مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِير“ کہ ایک امیر مہاجرین میں سے ہو اور ایک انصار میں سے تو ان کی بصیرت نے فوراً اندازہ لگالیا کہ انصار اپنا موقف چھوڑ چکے ہیں۔چنانچہ انہوں نے انہیں کہا: ” یہ تمہاری پہلی کمزوری ہے جو تم ظاہر کر چکے ہو۔“ تاریخ الخمیس و ابن ہشام امر سقیفہ بن ساعدة وابن اثیر حدیث السقيفة وخلافته ابی بکر وارضاه) یعنی بجائے خدمات سرانجام دینے کے اور اسلام کی ترقی کے لئے ایک منظم اور مضبوط تنظیم قائم کرنے کے تم دو قیادتوں اور نظاموں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ہو۔ایسے نظام جس میں دو سر براہ ہوں ،کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔یہ باتیں ابھی اسی مرحلہ پر چل ہی رہی تھیں کہ حضرت عمر کو انصار کے اس اجتماع کا علم ہوا۔حضرت ابوبکر آنحضرت ام کی تجہیز و تکفین کے لئے آنحضرت ام کی میت کے پاس تھے۔