خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 135 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 135

۱۳۳ میں انصار و مہاجرین کے فضائل کا بھی کھل کر تذکرہ ہوا۔اس کے علاوہ تیسری رائے وہ تھی جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ دو امیر ہوں۔ایک انصار میں سے اور ایک قریش میں سے۔اس تجویز پر اختلاف رائے بھی ہوا۔لیکن جلد ہی یہ موقف بھی خدا تعالیٰ کی تقدیر کے آگے سرنگوں ہو گیا۔حضرت ابو عبیدہ بن الجرائخ نے انصار کو مخاطب کر کے کہا : ”اے انصار مدینہ تم وہ ہو جنہوں نے سب سے بڑھ کر خود کو اس دین کی خدمت کے لئے پیش کیا تھا اور اب تم اس وقت سب سے پہلے اسے بدلنے اور بگاڑنے والے نہ بنو۔“ ( ابن اثیر حدیث السقيفة وخلافته ابی بکر وارضاه) اس حقیقت افروز پیغام سے انصار نے اثر لیا اور ان میں سے حضرت بشیر بن سعد ا ٹھے اور انصار سے مخاطب ہوئے: ”اے انصار ! اللہ کی قسم ! گو ہمیں مشرکوں سے جہاد کرنے میں دین میں سبقت کے لحاظ سے مہاجرین پر فضیلت ہے۔یہ ہم نے محض رضائے النبی کے حصول ، اطاعت رسول کی خاطر اور اپنے نفسوں کی اصلاح کے لئے کیا تھا۔ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم اب فخر و مباہات سے کام لیں اور دینی خدمات کے بدلہ میں ایسے اجر کے طالب ہوں جس میں دنیا طلبی کی بُو آتی ہو۔ہماری جزا اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور وہی ہمارے لئے کافی ہے۔رسول اللہ علم قریش میں سے تھے اور وہی لوگ اس (خلافت) کے حقدار۔ہیں۔اللہ نہ کرے کہ ہم ان سے جھگڑے میں مبتلا ہوں۔اے انصار! اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور مہاجرین سے اختلاف نہ کرو۔“ اسی لمحہ حضرت ابوبکر حضرت عمر اور حضرت ابوعبیدہ بن الجراح " کے ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہوئے اور آپ نے انصار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: وو ” تم نے جو اپنے اچھے اوصاف کا ذکر کیا ہے وہ بالکل صحیح ہے اور تم