خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 252
اس سال ۳۱ ڈسپنسریوں سے ۴۱۲، ۷ ۳ مریضوں کا علاج کیا گیا۔(حضور انور نے فرمایا یہ تعداد مجھے کم لگی ہے۔گنتی صحیح نہیں کی گئی ) ربوہ میں طاہر ہو میو پیتھک ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں ۱۲۱۵۶۰ مریضوں کا علاج کیا گیا۔جس میں ۴۱۵۶۰ غیر از جماعت مریضوں کا علاج کیا گیا۔حضور انور نے ہومیو پیتھی علاج کے ذریعہ شفاء پانے کے واقعات بیان فرمائے۔اس کے علاوہ حضور انور نے دُنیا بھر کے مختلف ممالک میں آپریشنز کے بعد شفاء پانے والے مریضوں کا بھی تذکرہ فرمایا۔ہیومینیٹی فرسٹ ہیومینیٹی فرسٹ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدمت انسانیت کا کام ہورہا ہے اور یہ دنیا کے ۱۹ ممالک میں رجسٹر ڈ ہو چکی ہے۔اور حال ہی میں UNO (اقوام متحدہ) نے بھی اپنے اداروں میں اس کو رجسٹرڈ کر لیا ہے۔اس سال جو پاکستان میں زلزلہ آیا تھا، اس میں ہیومینیٹی فرسٹ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا کام کیا ہے اور کینیڈا، امریکہ، جرمنی، یو کے اور ہالینڈ وغیرہ سے وہاں ڈاکٹروں اور رضا کاروں وغیرہ کی ٹیمیں گئی ہیں اور کام کرتی رہیں اور انہوں نے چھ مہینے سے زائد عرصہ تک کام کیا ہے۔دراصل اسی کام کو دیکھتے ہوئے، اقوام متحدہ نے اس ٹیم کو رجسٹر ڈ کیا ہے۔۷۵۰۰۰ زخمیوں اور مریضوں کو ہمارے ڈاکٹروں نے دیکھا ہے۔پاکستان میں ۵لاکھ ۲۰ ہزار کلو گرام امدادی سامان دیا گیا۔جس میں خوراک اور دوسری چیزیں شامل ہیں۔۳۹۰۰۰ متاثرین کو عارضی رہائش گاہ کی سہولت دی گئی، جن میں ٹینٹ اور جستی چادروں کے شیلٹرز وغیرہ شامل تھے۔ہیومینیٹی فرسٹ نے اسلام آباد میں میڈیکل ریلیف سنٹر قائم کیا جہاں شدید زخمی متاثرین اور ان کے خاندانوں کو ۱۳۲ دن تک رکھا گیا اور ہر ممکن دیکھ بھال کی گئی۔۱۲۵ شدید زخمی اور ان کے ۸۵۰ افراد خاندان کو ساتھ کھانا بھی مہیا کیا گیا۔۲۴ گھنٹے سہولتیں فراہم تھیں۔۱۳ کچھ ۵۶ ہزار ۴۰۰ سے زائد افراد کو کھانے مہیا کئے گئے۔ہیومینیٹی فرسٹ کے کل رضا کاروں نے ۴لاکھ ۸۱ ہزار ۱۹۲ مین آوورز فیلڈ آپریشن میں خرچ کئے۔یہ انسانیت کا کام ہم نے کیا قطع نظر اس کے کہ وہاں کیا سمجھا جاتا