خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 75
۷۴ ایمان لانے والے اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ دنیا کی ہر طاقت پر غالب آئے۔ہر بڑی سے بڑی سلطنت ان قلیل التعداد مومنوں کے سامنے سرنگوں ہوئی۔خیبر کے قلعے، ایران کے محلات اور شام کی فصیلیں اس کی گواہی کے لئے کافی ہیں۔علم ، دلائل ، صداقت کے زندہ اور جاری نشانات ، تاثیرات روحانیہ اور تائیدات الہیہ کے لحاظ سے بھی ہر مذہب اسلام کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔مگر کیا رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد یہ غلبہ ختم ہو گیا ؟ اگر مومنوں کا یہ غلبہ ختم نہیں ہوا تو آپ کے بعد وہ کون سا منصب عالی تھا جس پر ایمان لانا لازمی قرار پایا؟ اور وہ کون سا مقام بزرگ تھا جو ایمان کے قرار کا موجب بنا؟ اگر نبی اکرم م کے بعد بھی اسلام کے غلبہ کا تصوّ راور وعدہ موجود ہے اور ایمان ا س غلبہ کا لازمہ ہے تو پھر لازم نبوت کے بعد خلافت ہی وہ منصب عظیم ہے جس پر ایمان غلبہ وکامرانی سے ہمکنار کر سکتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے ” وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ میں تمکنت و استحکام دین اور غلبہ کو خلافت سے وابستہ کیا ہے۔اس کا واضح نظارہ تاریخ اسلام کے اس خوفناک موڑ پر نظر آتا ہے کہ جب مسلمانوں کے دلوں میں سطح ایمان اس معیار سے نیچے اتر گئی کہ جس پر خلافت کے قیام کا وعدہ مشروط تھا تو خدا تعالیٰ نے اس نعمت عظمیٰ کو اُن میں سے اٹھا لیا۔پھر جو مصیبتیں عالم اسلام پر افتراق وانتشار اور تنزل واد بار کی صورت میں نازل ہوئیں، سینہ تاریخ ان کی داستانوں سے خوں آشام ہے۔یہی وہ دور ہے جس میں امت پر طلوع ہونے والا ہر سورج مسلمانوں کی شکست و ہزیمت کا پیامبر تھا اور ہر ڈھلنے والا دن حسرت و یاس کی علامت۔اسی دور کا نام فیج اعوج یعنی ٹیڑھاؤ ور رکھا گیا۔اسلام کی اس حالت زار میں خدا تعالیٰ نے وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمْ کی صداقت کے ثبوت کے لئے خلافت کے ذریعہ استحکام اسلام اور تمکنت دین کا جلوہ ظاہر کیا اور محمد مصطفی ایم کی جانشینی میں مسیح موعود اور مہدی معہود کو امتی نبی اور خاتم الخلفاء بنا کر مبعوث فرمایا اور اسے یہ نوید دی وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تذکرہ: صفحہ ۶۱ الهام ۱۸۸۳ء۔مطبوعہ الشركة الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ ۱۹۷۷ء) کہ خدا تعالیٰ تیرے ماننے والوں کو منکروں پر قیامت تک غالب رکھے گا۔چنانچہ آپ کے ذریعہ