خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 74
والی ہوگی۔کیونکہ یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ یہ قدرت دائی ہے۔اس میں تو کوئی شک نہیں لیکن دائمی قدرت کے 66 ساتھ شرائط ہیں۔اعمالِ صالحہ۔“ (الفضل ربوه ۵ / جولائی ۶۲۰۰۵) خلاصہ کلام یہ کہ اعمال صالحہ خلافت کے وعدہ کی ایک شرط ہے اور خلافت جماعت مومنین کے ایمان و اعمالِ صالحہ کی سند بھی ہے اور خلافت سے محروموں کے عدمِ ایمان اور ان میں اعمالِ صالحہ کے فقدان کی علامت بھی۔(1) تمکنت دین و استحکام اسلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ” جب کوئی رسول یا مشائخ وفات پاتے ہیں تو دنیا پر ایک زلزلہ آجاتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے مگر خدا کسی خلیفہ کے ذریعہ اس کو مٹاتا ہے اور پھر گویا اس امر کا از سر نو اس خلیفہ کے ذریعہ استحکام ہوتا ہے۔(الحکم ( قادیان) ۴۱ / اپریل ۶۸۰۹۱) آیت استخلاف میں اللہ تعالیٰ نے خلافت حقہ کی ایک برکت لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمْ“ بیان فرمائی ہے کہ موت کے بعد اسلام کے دینی اور روحانی استحکام ، اس کی ترقی کا انحصار، اس کے غلبہ کا دارو مدار اور اس کی ترقیات کا سرچشمہ خلافت ہوگی کوئی دوسرا نظام نہیں۔اس کی تشریح آیت كريم أنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (ال عمران :۱۴۰) میں بیان فرمائی گئی ہے کہ غلبہ اور برتری ایمان کے ساتھ وابستہ ہے۔اس کے عملی نمونے آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے ذریعہ ظاہر ہوئے کہ آپ پر