خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 71 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 71

دراصل مومن ہیں اور مناسب حال نیک عمل کرنے والے ہیں۔یہ آیت واضح کرتی ہے کہ یہ وعدہ مشروط ہے ان لوگوں سے جو نظام خلافت پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ ایمان رکھتے ہیں کہ نظام خلافت برحق نظام ہے۔یہ وعدہ ایمان اور اعمالِ صالحہ کا وہ خاص معیار چاہتا ہے جو خدا کے اس انعام کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔لہذا جماعت میں خلافت راشدہ کا قیام اس جماعت کے ایمان اور اعمالِ صالحہ کے معیاری ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔یہ ضمون قرآن کریم کی ان آیات سے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: " يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ (الشوری: ۵۰) کہ خدا جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹوں سے نوازتا ہے۔خدا کی اس عطا اور موہبت کو جذب کرنے کے لئے انسان میں صلاحیت کی ضرورت ہے جس کے نتیجہ میں اولاد کا حصول ہوتا ہے اور جس میں یہ صلاحیت نہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کی اس عنایت کو حاصل نہیں کر سکتا۔اسی طرح فرمایا: ” وَأَنْتُمْ تَزَرَعُوْنَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ (الواقعہ: ۲۵) کہ یہ جواہلہاتی سرسبز و شاداب کھیتیاں تمہیں نظر آتی ہیں یہ تم اُگاتے ہو یا ہم؟ یعنی اگر کسان بنجر اور سیم زدہ زمین میں بیج ڈالے گا تو فصل حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ فصل اُگانے کی صلاحیت اس زمین میں نہیں جو زرخیز زمین میں ہوتی ہے۔اس لئے اس زمین میں فصل کا نہ ہونا اس بات کی تصدیق ہے کہ وہ نا قابلِ کاشت ہے۔بعینہ کسی جماعت میں خلافت کا قائم نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے افراد میں لازماً ایمان اور اعمال صالحہ کا فقدان ہے۔پس جس طرح ایک نجر اور سیم زدہ قطعہ زمین فصل پیدا نہیں کر سکتا اسی طرح خدا کی یہ نعمت اور وعدہ خلافت اس جماعت میں پورا نہیں ہو سکتا جو ایمان اور عمل صالح کے اس معیار پر قائم نہ ہو جو خلافت کے قیام کے لئے شرط ہے۔مگر جس جماعت میں اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق خلافتِ را شدہ قائم فرمائے ، وہ یقینا مومنین اور صالحین کی جماعت ہے۔امت مسلمہ خلافت راشدہ سے محرومی کے بعد جب لمحه به لحه زوال واد بار اور تشتت و انتشار کے زینے اترتی چلی گئی اور پھر ایک لمبے زمانہ کے بعد دردمند مسلمانوں نے خلافت کی کمی شدت سے